BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 01:15 GMT 06:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی فہرستوں کی تیاری شروع

ابتدائی طور پر تیار کی گئی فہرستوں میں دو کروڑ ووٹرز کے نام کا اندارج نہیں تھا
پاکستان میں ترمیم شدہ انتخابی فہرستیں چھپائی کے لئے بھیج دی گئی ہیں اور خیال ہے کہ اس ماہ کے آخرتک ان کی چھپائی کا کام مکمل ہوجائے گا جس کے بعد انہیں عام نمائش کے لئے رکھ دیا جائے گا اور اعتراضات داخل کرنے لئے مزید پندرہ دن دئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی درخواست پر گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر انتخابی فہرستوں میں ان تمام ووٹروں کے نام بھی شامل کرے جن کے نام قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی بناء پرشامل نہیں کئے گئے۔

ایک اندازے کے مطابق غائب ووٹروں کی تعداد کوئی دو کروڑ 20لاکھ بنتی تھی۔ ان کی گنتی کا کام 21 اگست سے شروع کیا گیا تھا اور 31 اگست تک مکمل کرلیا گیا، اس کے بعد علاقائی انتخابی کمیشنوں کے حکام نے اس پر نظر ثانی کی اور کل اسے مرکزی کمیشن کو روانہ کردیا گیا جہاں سے انہیں آج چھپائی کے لئے پریس روانہ کردیا گیا۔

کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی فہرستوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ غائب ووٹروں کی تعداد تین کروڑ سے بھی تجاوز کر جائے گی اور یہ بھی خطرہ ہے کہ ایک آدمی کا نام اس کے ِ آبائی گاؤں یا علاقے سے بھی درج ہوگیا ہے اور جس شہر یا مقام پر وہ اپنے روزگار کے سلسلہ میں رہتا ہے وہاں بھی فہرست میں اس کا نام شامل ہوگیا ہے، دوسرے ایسے لوگوں کا پتہ چلانے کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہے جو سابقہ فہرست کی اشاعت کے بعد سے انتقال کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک ایسی فہرست جو ہر اعتبار سے قابل اعتماد ہو اور جس میں غلطیاں کم سے کم ہوں صرف قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرہ کے تعاون سے ہی بنائی جاسکتی ہے اس لئے اس کا ’ڈیٹا بیس‘ خاصہ تفصیلی ہے اوراس سے کسی بھی شخص کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اطلاعت کے مطابق نادرہ اور انتخابی کمیشن کے درمیان کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی فراہمی کی قیمت پر سمجھوتا نہیں ہوسکا۔ مبینہ طور پر نادرہ فی اندراج جو قیمت طلب کررہا تھا وہ انتخابی کمیشن کے مطابق زیادہ تھی اور اس سے اخراجات بہت بڑھ جاتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد