BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کابل جرگہ، ایک بے نتیجہ مشق‘

جرگہ
جرگے کے اعلامیے میں خیر سگالی کے الفاظ اور روایتی کلمات کے سوا کچھ نہیں
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کابل جرگے کو ایک بے نتیجہ مشق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نہ تو پہلے کوئی نشان منزل تھا نہ ہی اب کوئی نشان منزل متعین کیا جا سکا ہے۔

یہ بات انہوں نے ایران کے چارروزہ دورے کے بعد پاکستان واپسی پر لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ایران کی ایک یونیورسٹی میں لیکچر دینے گئے تھے اور ان کے اس دورے کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے۔

قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جرگے کے اعلامیے میں خیر سگالی کے الفاظ اور روایتی کلمات کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ بے معنی جرگہ ہے اور اعلامیے کے بعد لگتا یوں ہے کہ یہ محض افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کی ایک کوشش ہے۔ قائد حزب اختلاف نے کابل جرگہ کو امریکہ کے دباؤ پر ہونے والی ایک بے نتیجہ مشق قرار دیا اور کہا کہ یہ بھی فیصلہ نہیں ہوسکا کہ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو ئی معاملہ تھا یا افغانستان کے اندر کوئی تنازعہ جسے حل کرنا تھا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس جرگے میں افغانستان میں مد مقابل فریق تک کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

جرگہ بینر
جرگے کے موقع پر کابل میں کئی جگہ بینر لگے ہوئے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات امن کے لیے ناکافی ہیں۔ اصل بنیاد کو تلاش کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت پورے خطے کو غیر متوازن کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی اور مغربی قوتیں افغانستان میں موجود رہتی ہیں تو اس خطے میں کبھی امن پیدا نہیں ہوسکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے کوئی خاص نمائندگی نہیں ہوئی۔ اکا دکا علماء کرام اور قبائلی سرداروں کے سوا کوئی شرکت کے لیے نہیں گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جرگے کےافتتاحی سیشن میں وزیر اعظم جبکہ اختتامی سیشن میں صدر مشرف کا جانا سفارتی لحاظ سے نامناسب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا نمائندہ مکمل نمائندگی کرتا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ ایک نکتے پر وزیر اعظم اور دوسرے پر صدر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے اس روش کے حق میں نہیں ہیں کہ کل وزیر اعظم جا رہا ہے آج صدر جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے مذاق کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم تو کٹھ پتلی جیسی ایک چیز ہے جسے ضرورت ہو تو بھیج دیا جائے نہ ضرورت ہو تو اٹھا لیا جائِِے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح تو کوئی سیکشن آفیسرز کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد