BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 18:54 GMT 23:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسیمہ لبانو،جہاز سے فٹ پاتھ تک

نسیمہ لبانو
ملزماں کے خوف سے نسیمہ اور اس کا خانداں واپس اپنے گاؤں بھی نہیں جاسکتا
حکومتی وعدوں پر سکھر سے کراچی آنے والی اجتماعی زیادتی کا شکار نسیمہ لبانو ایک ماہ سے زائد عرصے سے بے یار و مددگار فٹ پاتھ پر بیٹھی ہے۔

نسیمہ اور اس کے اہلِ خانہ حکومتی عدم توجہ کے خلاف ایک ماہ سے پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

اس کے والد حمزہ لبانو کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے آئے ضرور مگر صرف تصاویر بنوانے کے لیے جبکہ کسی حکومتی شخصیت نے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

گورنر سندھ کے خصوصی احکامات پر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ سکھر سے بذریعہ جہاز کراچی لائی جانے والی نسیمہ لبانو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حکومت کی جانب سے اعلی طبی امداد، گھر، مالی امداد اور تحفظ ملنے کے چند ہی مہینے بعد اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جائے گا۔

 چھ ماہ گزرنے کے باوجود نسیمہ لبانو اُس واقعے کو یاد کر کے رو دیتی ہے جو اُس پراوباڑو شہر سے دو کلومیٹر کی مسافت پر واقع گاؤں حبیب اللہ لبانو میں پیش آیا تھا

سرکاری اہلکاروں نے نسیمہ لبانو سے گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں ملنے والی رہائش گاہ جون کی تئیس تاریخ کو خالی کرائی جب پورا شہر طوفاں اور آندھی کی لپیٹ میں تھا۔

نسیمہ کے والد حمزہ لبانو کا کہنا ہے کہ’ ابتداء میں ہی نسیمہ کا معاملہ سیاست کی نظر ہوگیا تھا حکومت اور اپوزیشن اس مسلئے کو ایک دوسرے پر سبقط لے جانے کے حربے کے طور پر استعمال کرتے رہے مگر آج کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ جس وقت شہر میں طوفاں سے لوگو ہلاک ہو رہے تھے اس وقت پولیس کے ذریعے ہم سے گھر خالی کرایا گیا ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن نے سولہ نفوس پر مشتمل ہمارے خاندان کو سر چھپانے کے لیے چھت دی۔

نسیمہ لبانو
نسیمہ کا کہنا ہے کہ انہیں رات کو نیند نہیں آتی

حکمران جماعت متحدہ قومی مومنٹ نے نسیمہ اور اس کے خانداں کو کراچی منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس میں متحدہ قومی مومنٹ کے ممبر صوبائی اسمبلی فیصل سبزواری پیش پیش تھے۔

فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ نسیمہ لبانو کی فلاح و بہبود ہماری ذمہ داری ہے تاہم نسیمہ کی موجودہ صورتحال سے فیصل سبزواری نا واقف تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نسیمہ کیس کو سیاسی ایشو بنانے کی ضرورت دیگر جماعتوں کو ہوگی متحدہ نے ہمیشہ کوشش کی کہ خواتین کے ساتھ معاشرتی نا انصافی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد