BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد:134 طلباء ریمانڈ پر

پولیس نے لال مسجد سے دو سو پنتالیس افراد کو حراست میں لیا تھا
اسلام آباد پولیس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے آپریشن کے دوران حراست میں لیے جانے والے ایک سو چونتیس افراد کا پانچ مختلف مقدمات میں جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

منگل کو ایک سو چھتیس افراد کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جن میں سے عدالت نے دو افراد کو کمسن ہونے کی بنا پر جیل بھجوا دیا۔

فاضل عدالت نے چھپن افراد کو چار روزہ ریمانڈ پر تھانہ آبپارہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد تین جولائی کو درج ہونے والے مقدمے میں مطلوب ہیں جس میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے عدالت میں پچپن افراد کو تھانہ کوہسار میں درج دو الگ الگ مقدمات کے ضمن میں پیش کیا۔ان پرالزام ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے جامعہ فریدیہ لے گئے تھے۔ فاضل عدالت نے ان افراد کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

جج نے تئیس جون کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ تھری سے چینی باشندوں کو اغوا کے دس ملزمان کو جبکہ تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے میں تیرہ افراد کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دینے کا حکم بھی دیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ چوہدری افتخار احمد نے پیر کے روز لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعہ کے بارے میں تحقیقات کرنے والے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کو بتایا تھا کہ پولیس نے لال مسجد سے دو سو پنتالیس افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے چھیاسی کو چھان بین کے بعد رہا کر دیا ہےجبکہ باقی کے بارے میں چھان بین جاری ہے۔ منگل کو پولیس نے مزید تیرہ افراد کو رہا کیا۔

ادھرلال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے وکیل حشمت حبیب نے منگل کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں رینجرز کےاہلکار کے قتل کے مقدمے میں مولانا عبدالعزیز کی دو صاحبزادیوں کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس درخواست کی سماعت بدھ اٹھارہ جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

 پولیس نے طیبہ دعا کو چار جولائی کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے والد مولانا عبدالعزیز کے ساتھ جامعہ حفصہ سے باہر آرہی تھیں۔طیبہ کے خلاف ایف ایٹ تھری سے چینی باشندوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ بھی درج ہے جبکہ عصمہ عزیز کو دس جولائی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دوسری خواتین کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد جامعہ حفصہ سے باہرآ رہی تھیں۔

وکیل صفائی حشمت حبیب نے درخواست میں کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی بیٹیاں سترہ سالہ طیبہ دعا اور تیرہ سالہ عصمہ کا نام اس مقدمے میں شامل نہیں ہے اور پولیس نے انہیں صرف مولانا عبدالعزیز کی صاحبزادیاں ہونے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں چھ سات سو برقعہ پوش طالبات کا ذکر ہے جو تین جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے لال مسجد کے طلباء پر فائرنگ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں تھیں اور طالبات کے اتنے بڑے ہجوم میں پولیس نے ان دونوں لڑکیوں کو کیسے پہچان لیا۔

حشمت حبیب نے کہا کہ خواتین ہونے کے ناطے یہ دونوں طالبات حقوق نسواں ایکٹ کے زمرے میں آتی ہیں اور ان طالبات کی عمریں بھی کم ہیں لہذا ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔

واضح رہے کہ پولیس نے طیبہ دعا کو چار جولائی کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے والد مولانا عبدالعزیز کے ساتھ جامعہ حفصہ سے باہر آرہی تھیں۔طیبہ کے خلاف ایف ایٹ تھری سے چینی باشندوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ بھی درج ہے۔

عصمہ عزیز کو پولیس نے دس جولائی کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ دوسری خواتین کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد جامعہ حفصہ سے باہرآ رہی تھیں۔مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان اور ان کی دو بیٹیوں کو بدھ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ادھر اسلام آباد کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر مولانا عبدالعزیز کی بہنوں نبیلہ خالد اور جمیلہ شاہد کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا ہے تاکہ ان کی والدہ کی لاش کی شناخت کی جاسکے جو لال مسجد اپرشن کے دوران جل جانے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہوگئی تھی۔

عثمان شاہمعاملہ خدا کے سپرد
’اپنا خون پہچاننے میں دیر نہیں لگتی‘
صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
انعام اللہ ہلاک
’درخت کے پتوں اور بارش کے پانی پر زندہ تھے‘
اسی بارے میں
پاکستان میں سکیورٹی سخت
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد