لال مسجد:134 طلباء ریمانڈ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد پولیس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے آپریشن کے دوران حراست میں لیے جانے والے ایک سو چونتیس افراد کا پانچ مختلف مقدمات میں جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ منگل کو ایک سو چھتیس افراد کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جن میں سے عدالت نے دو افراد کو کمسن ہونے کی بنا پر جیل بھجوا دیا۔ فاضل عدالت نے چھپن افراد کو چار روزہ ریمانڈ پر تھانہ آبپارہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد تین جولائی کو درج ہونے والے مقدمے میں مطلوب ہیں جس میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے عدالت میں پچپن افراد کو تھانہ کوہسار میں درج دو الگ الگ مقدمات کے ضمن میں پیش کیا۔ان پرالزام ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے جامعہ فریدیہ لے گئے تھے۔ فاضل عدالت نے ان افراد کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ جج نے تئیس جون کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ تھری سے چینی باشندوں کو اغوا کے دس ملزمان کو جبکہ تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے میں تیرہ افراد کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دینے کا حکم بھی دیا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ چوہدری افتخار احمد نے پیر کے روز لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعہ کے بارے میں تحقیقات کرنے والے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کو بتایا تھا کہ پولیس نے لال مسجد سے دو سو پنتالیس افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے چھیاسی کو چھان بین کے بعد رہا کر دیا ہےجبکہ باقی کے بارے میں چھان بین جاری ہے۔ منگل کو پولیس نے مزید تیرہ افراد کو رہا کیا۔ ادھرلال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے وکیل حشمت حبیب نے منگل کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں رینجرز کےاہلکار کے قتل کے مقدمے میں مولانا عبدالعزیز کی دو صاحبزادیوں کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس درخواست کی سماعت بدھ اٹھارہ جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ وکیل صفائی حشمت حبیب نے درخواست میں کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی بیٹیاں سترہ سالہ طیبہ دعا اور تیرہ سالہ عصمہ کا نام اس مقدمے میں شامل نہیں ہے اور پولیس نے انہیں صرف مولانا عبدالعزیز کی صاحبزادیاں ہونے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں چھ سات سو برقعہ پوش طالبات کا ذکر ہے جو تین جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے لال مسجد کے طلباء پر فائرنگ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں تھیں اور طالبات کے اتنے بڑے ہجوم میں پولیس نے ان دونوں لڑکیوں کو کیسے پہچان لیا۔ حشمت حبیب نے کہا کہ خواتین ہونے کے ناطے یہ دونوں طالبات حقوق نسواں ایکٹ کے زمرے میں آتی ہیں اور ان طالبات کی عمریں بھی کم ہیں لہذا ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔ واضح رہے کہ پولیس نے طیبہ دعا کو چار جولائی کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے والد مولانا عبدالعزیز کے ساتھ جامعہ حفصہ سے باہر آرہی تھیں۔طیبہ کے خلاف ایف ایٹ تھری سے چینی باشندوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ بھی درج ہے۔ عصمہ عزیز کو پولیس نے دس جولائی کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ دوسری خواتین کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد جامعہ حفصہ سے باہرآ رہی تھیں۔مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان اور ان کی دو بیٹیوں کو بدھ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر مولانا عبدالعزیز کی بہنوں نبیلہ خالد اور جمیلہ شاہد کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا ہے تاکہ ان کی والدہ کی لاش کی شناخت کی جاسکے جو لال مسجد اپرشن کے دوران جل جانے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہوگئی تھی۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: پاکستان میں مظاہرے13 July, 2007 | پاکستان ’ہلاکتوں کی تحقیق نہیں ہوگی‘13 July, 2007 | پاکستان پاکستان میں سکیورٹی سخت 13 July, 2007 | پاکستان ’درخت کے پتوں اور بارش کے پانی پر زندہ تھے‘ 12 July, 2007 | پاکستان ’خوشی کا نہیں سوچنے کا دن‘12 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||