فائرنگ سے 10 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو مختلف واقعات میں دس افراد ہلاک جبکہ فوج کا ایک افسر زخمی ہوگیا ہے۔ دونوں واقعات میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق مقامی اتمان زئی وزیر قبائل سے ہے۔ شمالی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ رحمت اللہ کے چھوٹے بھائی محبوب کو گزشتہ رات نامعلوم افراد نے سرابائی کے علاقے سے اغواء کیا تھا جن کی لاش جمعہ کو میرعلی کے گاؤں خدیوہ سے ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغواء کاروں نے گاڑی خراب ہونے کی صورت میں لاش کے پاس کچھ فاصلے پر چھوڑ دی تھی اور ان کی کوشش تھی کہ وہ اس گاڑی کو وہاں سے کسی طرح سے ہٹا لیں، جیسے ہی پانچ مسلح نقاب پوش اس گاڑی کو لینے وہاں پہنچے تو محبوب کے خاندان کے افراد جو قریب ہی ایک نالے میں چھپ کر بیٹھے تھے ان پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں تین اغواء کار موقع ہی پر ہلاک ہوگئے جبکہ مسلح افراد کی فائرنگ سے محبوب کے دو رشتہ دار بھی ہلاک ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچوں کا تعلق مقامی جنگجو طالبان سے بتایا جاتا ہے لیکن انتظامیہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ دوسرا واقعہ شمالی وزیرستان کی سب ڈویژن رزمک میں پیش آیا جہاں انتظامیہ کے مطابق پاک فوج کے ایک میجر ایک مقامی شخص ملک خان فراز کے ساتھ رزمک سے میرانشاہ جا رہے تھے کہ راستے میں کچھ مسلح افراد نے ان کو اغواء کرنے کی کوشش کی جس پر ملک خان فراز نے اغواء کاروں پر خود کار ہتھیار سے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چار اغواء کار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ان افراد کا تعلق بھی مقامی طالبان سے بتایا جاتا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ کون ہیں اور ان کا تعلق کس گروہ سے ہے۔ |
اسی بارے میں ’وزیرستان جھڑپیں جاری 52 ہلاک‘30 March, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: سرکاری اہلکار قتل04 May, 2007 | پاکستان وزیرستان: پانچ لاشیں برآمد11 May, 2007 | پاکستان وزیرستان: چار’جنگجو‘ ہلاک22 May, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: مغوی اہلکار رہا23 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||