صرف ہم ہی مطعون نہیں:جسٹس رمدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل رحمان رمدے نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے ’مارشل لاء‘ کو تین سال کے لیے جائز قرار دیا تھا لیکن عوام نے انہیں پانچ سال دے دیئے۔ صدارتی ریفرنس کے خلاف چیف جسٹس کی درخواست پر منگل کو سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن اور ججوں کے درمیان انتہائی دلچسپ مکالمہ ہوا۔ چودھری اعتزاز احسن کے دلائل کے دوران ایک موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ملک کو درپیش آئینی اور سیاسی مسائل کا ذمہ دار صرف عدلیہ کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ’ ہم اتنے اچھے لوگ نہیں ہیں لیکن ہم ہی مطعون اور قابل طعنہ زنی نہیں ہیں باقیوں کو بھی سوچنا چاہیے۔‘ تیرہ رکنی بنچ کے سربراہ نے کہا کہ ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ جسٹس منیر نے ایوب خان کے مارشل لاء کو جائز قرار دے کر ملک کو بیڑہ غرق کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایوب خان نے ملک کو آئین دیا اور اس آئین کو کسی نے رد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی آئین کے تحت وزیر اور اپوزیش لیڈر بننے۔ یہاں پر اعتزاز احسن نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی آئین کے تحت جج بنے۔ اعتزاز احسن نے کہا ’اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں فرق صرف یہ ہے کوئی زیادہ ننگا ہے کوئی کم۔‘ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے چار عناصر ذمہ دار ہیں۔ سب سے پہلے فوج پھر عدلیہ اس کے بعد مذہبی جماعتیں اور سب سے آخر میں سیاسی جماعتیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر فوج کے خلاف بات کی جائے تو جاوید ہاشمی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کے خلاف بات کی جائے تو سمری ٹرائل کے بعد چھ مہینے کے لیے جیل جانا پڑتا ہے مذہبی جماعتوں کے خلاف بات کی جائے تو فتویٰ آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارا کا سارا گند سیاسی جماعتوں کی دہلیز پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اعتزاز احسن کے دلائل کے دوران بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ سیاست دان بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور عدالتیں ٹھیک کرتی ہیں۔ جسٹس نواز عباسی کے جواب میں اعتزا احسن نے معنی خیز انداز میں کہا کہ وہ چھ مہینے سے ڈرتے ہیں اس لیے اس پر کچھ نہیں کہیں گے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا مقدمہ مولوی تمیز الدین کیس سے زیادہ اہم ہے اور یہ ملک کی سمت کا تعین کر دے گا۔ اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین ججوں پر اعتراضات کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جج پر تعصب کا الزام لگایا جائے تو اس کو مقدمہ نہیں سننا چاہیے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین ججوں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں پر عموماً دو قسم کے اعتراض کیئے جاتے ہیں، اول یہ کہ سائل کہے کہ جج سے انصاف کی توقع نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ کسی مقدمے میں جج کا ذاتی مفاد وابستہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں جج مقدمے کی سماعت کرنے سے بالکل نااہل ہو جاتا ہے۔ اس موقع ہر جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ حساس نوعیت کے معاملات کو جج کے ضمیر پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس پر عدالت کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف نو مارچ کو صدراتی ریفرنس دائر کیئے جانے کے بعد چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان ’شرارت کرو گے تو جج بنا دوں گا‘23 May, 2007 | پاکستان مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا25 May, 2007 | پاکستان ’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘25 May, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن، باقاعدہ سماعت شروع11 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||