سیاسی کارکن جیل میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینٹرل جیل لاہور میں نظر بند پیپلزپارٹی کے کارکن سرمد منصور دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے ان درجنوں کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع سے گرفتار کر کے جیل بھجوایا گیا ہے۔ چون برس کے متوفی سرمد منصورگجرات کے رہائشی اور ایک کارخانہ دار تھے۔ان کے وکیل نصیر بھٹہ نے کہا ہے کہ وہ بیمار تھے اور شدید گرمی کے موسم میں جیل کی سختی برداشت نہیں کر سکے۔ اپوزیشن رہمناؤں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور پولیس کارکنوں کو گرفتار کرنے کے دوران ان کے اہلِخانہ سے بد تمیزی بھی کرتی ہے۔گرفتار سیاسی کارکنوں کو ان کے آبائی شہروں سے گرفتار کرنے کے بعد دور دراز کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سرمد منصور کو گزشتہ ہفتے گجرات سے حراست میں لینے کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔صوبائی محکمہ داخلہ سے ان کے نوے روز کی نظر بندی کے احکامات جاری ہوئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کے صدر نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ان سمیت سینتالیس سیاسی کارکنوں کی نظر بندی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ بدھ کو مختصر سماعت ہوئی تو انہوں نے عدالت کی توجہ سرمد منصور کی خراب طبی حالت کی جانب مبذول کروائی لیکن اس مقدمہ کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔ تاہم سرمد منصور جمعرات کو جیل میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی لاش ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر تجارت احمد مختار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاش تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر گجرات روانہ کردی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے چند سیاسی اسیروں کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیکر ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے قانونی مشیر راولپنڈی اور بہاولپور میں بھی اپنے کارکنوں کی رہائی کے لیے عدالتوں سے رجوع کیے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں اپنے چمبر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صرف ان لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو قانون شکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں میں جرائم پیشہ افراد ہیں تو انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے کتنے لوگ حراست میں ہیں۔ان کے بقول انہوں نے فہرست مانگی تو صرف سو افراد کی فہرست حکومت کے حوالے کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رانا آفتاب احمد خان نے بتایاکہ فیصل آباد اور اس کے ارد گرد کے شہروں سے صرف پیپلز پارٹی کے ہی ایک سو انیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور یہ فہرست انہوں نے حکومت کے حوالے کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کے گرفتار کارکنوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل غلام عباس نے کہا کہ گرفتاریاں چیف جسٹس کے فیصل آباد استقبال کو ناکام بنانے کی حکومتی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سنیچر کو فیصل آباد جا رہے ہیں جہاں انہوں نے فیصل آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرنا ہے۔ | اسی بارے میں پنجاب میں مزید گرفتاریاں14 June, 2007 | پاکستان لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس14 June, 2007 | پاکستان پیمرا: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج07 June, 2007 | پاکستان ’وکلاء تحریک روکنے کی کوشش‘06 June, 2007 | پاکستان جسٹس کے حق میں ملک گیر احتجاج12 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی معطلی پر احتجاج10 March, 2007 | پاکستان حکومت مخالف تحریک کا اعلان12 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||