طاہر مرزا اپنے دوستوں کی نظر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وقار احمد: لندن مجھے کل بی بی سی کے میرے ایک ساتھی ساجد اقبال نے اسلام آباد سے فون کیا اور یہ خبر دی کہ طاہر مرزا کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے اور پھر آج میری بہن شاہدہ کا لاہور سے فون آیا کہ طاہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ خبر غیرمتوقع نہیں تھی، وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے لیکن جب میں ان سے پچھلے نومبر دسمبر میں کراچی میں ملا تھا تو اس وقت امید و بیم کی جو کیفیت تھی اس میں امید کا پلڑہ قدرے بھاری نظر آ رہا تھا۔ وہ چلتے پھرتے تھے، ڈرائیو کرکے مجھ سے ملنے بھی آئے اور وہ پابندی سے اخبار ڈان میں کالم بھی لکھتے رہے لیکن بعد میں ان کی بیماری میں اور کئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں اور بالآخر جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ یہ خبر سن کر میری جو کیفیت ہوئی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ میرے دیرینہ دوست اور ہمدم تھے۔ یوں تو ان سے میری ملاقات لاہور میں ہوئی تھی لیکن ان کا ساتھ اس وقت ہوا جب وہ بی بی سی اردو سروس میں ملازم ہوئے۔
بی بی سی میں طاہر مرزا کی کارکردگی سے یہاں کے افسران سے بہت خوش تھے اور انہیں یہاں مستقل ملازمت کی پیشکش بھی کی گئی لیکن ان کا دل اخباری صحافت میں لگا تھا چنانچہ انیس سو تراسی میں وہ خلیج ٹائمز میں اسسٹنٹ ایڈیٹر ہو کر دبئی چلے گئے۔ چند برسوں بعد وہ دبئی سے پاکستان چلے گئے جہاں وہ لاہور میں ڈان اخبار میں کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بنے پھر ڈان کے نامہ نگار ہو کر امریکہ چلے گئے۔ وہاں سے واپسی پر وہ ڈان کے ایڈیٹر ہو گئے اور یہ ان کی صحافتی زندگی کا عروج تھا۔
طاہر مرزا ایک نہایت دلکش شخصیت کے مالک تھے، وہ بڑے اچھے انسان تھے۔ ان کی دوست نوازی اور مہمان نوازی ناقابل فراموش تھی۔ ان کے چلے جانے سے پاکستان نہ صرف ایک اچھے صحافی سے محروم ہو گیا بلکہ ہم سب ایک نہایت اچھی شخصیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس وقت ہم ان کی بیگم پروین، ان کے بیٹے عامر اور ان کی بیٹی نوما سے خاص طور سے تعزیت کرتے ہیں۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔الٰہی کس دیس وہ صورتیں بستیاں ہیں، جنہیں دیکھنے کو اب آنکھیں ترستیاں ہیں۔ علی احمد خان: ایبٹ آباد میں جب سے انہیں جانتا ہوں، میں نے انہیں ہمیشہ ان کی بذلہ سنجی کی وجہ سے دیگر دوستوں سے مختلف پایا۔ وہ مشکل حالات کو بھی بہت ہلکے پھلکے انداز میں لیتے تھے۔ وہ بی بی سی میں اگرچہ صرف تین چار سال رہے لیکن اپنے دوستانہ رویے کی وجہ سے وہ بش ہاؤس کی ایک ہردلعزیز شخصیت تھے۔وہ خاص طور پر نیوز روم میں بہت پاپولر تھے۔ بش ہاؤس میں اب بھی بہت سارے لوگ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ جب وہ ڈان میں آ گئے تب بھی ان کا دوستانہ رویہ برقرار رہا۔ وہ اپنے پرانے دوستوں کی بہت خاطر مدارت کرتے تھے۔ وہ اپنے ماتحتوں سے بھی بہت شفقت سے پیش آتے اور ہمیشہ ان کا رویہ ہمدردانہ ہوتا۔ صفدر قریشی: اسلام آباد
راشد اشرف: لندن وہ ایک پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ عمدہ گفتگو کرتے تھے اور ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ نوجوان طاہر مرزا، ان کی بیوی پروین مرزا اور دو خوبصورت بچوں کے آنے سے اردو سیکشن میں ایک رونق سی ہو گئی تھی۔ طاہر کے آنے کے بعد ایک چیز جس کا ہمیں پہلی بار احساس ہوا وہ یہ تھی کہ پاکستان میں اردو زبان تیزی سے بدل رہی ہے۔ طاہر مرزا چونکہ انگریزی صحافت کے پس منظر سے آئے تھے اس لیے ان کی اردو اتنی معیاری نہیں تھی۔ ہم سب نے مل کر ان کو اردو زبان کے اس معیار پر لانے کی کوشش کی اور وہ بہت تیزی سے سیکھ گئے اور بخوبی بی بی سی اردو کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کرتے رہے۔ بی بی سی میں ان کا بہت اچھا وقت گزرا اور ڈیوڈ پیج سمیت ان کے افسران ان کی بہت قدر کرتے تھے۔ لیکن تحریری صحافت کے پس منظر کی وجہ سے ان کا بی بی سی میں دل نہیں لگااور وہ مستقل نوکری کی پیش کش کے باوجود سن انیس سو تراسی میں خلیج ٹائمز میں چلے گئے۔ | اسی بارے میں معروف صحافی طاہر مرزا انتقال کر گئے29 May, 2007 | پاکستان ڈبلیو زیڈ احمد کی یاد میں19 April, 2007 | فن فنکار اسد امانت علی انتقال کرگئے08 April, 2007 | فن فنکار موسیقار او پی نیر کا انتقال 28 January, 2007 | فن فنکار شوکت صدیقی انتقال کر گئے18 December, 2006 | فن فنکار رِشی کیش مُکھرجی نہیں رہے 27 August, 2006 | فن فنکار گنگا کنارے بجنے والی شہنائی خاموش ہوگئی21 August, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||