قبائیلی علاقے: فوج کے لیے سہولیات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے ملک کے قبائلی علاقوں خصوصا شمالی اور جنوبی وزیرستان میں فوجیوں کے لیے مستقل بنیادوں پر نئی عمارتیں تعمیرکرنےاور دیگر سہولتیں مہیا کرنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کےمطابق اس منصوبے پر ایک ارب چار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ منصوبے کے تحت رہائشی، دفتری اور تربیتی عمارتیں قبائلی علاقوں میں سات مقامات پر تعمیر کی جائیں گی۔ جن میں ورسک، رزمک، پارہ چنار اور ثمر باغ کے علاقے شامل ہیں۔ دو برسوں میں اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا جس کی منظوری گزشتہ دنوں منصوبہ بندی کمیشن بھی دے چکا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نےایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان نئی تعمیرات کا مقصد ان علاقوں میں تعینات فوجیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولت مناسب رہائشی اور دفتری جگہوں کی صورت میں فراہم کرنا ہے۔ یہ تعمیرات بنیادی طور پر اس علاقے میں سرحد اور امن عامہ کی نگرانی کرنے والی نیم فوجی ملیشیا سوات سکاؤٹس، کرم ملیشیا، شوال رائفلز، دیر سکاؤٹس اور نئی قائم کی جانے والی ٹل سکاؤٹس کے لیے ہوں گی۔ اس منصوبے کے تحت ونگ کمانڈر کے دفاتر، کمانڈر کی رہائش گاہ، کواٹر گارڈز، آفیسرز میس، بیرکیں، ڈائنگ ہال، اسلحہ ڈیپو، سڑکیں اور ٹیوب ویل تعمیر کیئے جائیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کا علاقے میں سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھانے کا بھی ارادہ ہے۔ پاکستان نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد پہلی مرتبہ باقاعدہ فوج قبائلی علاقوں میں سرحد کی نگرانی کے لیے تعینات کی تھی جس کی تعداد اب بڑھ کر اسی ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ | اسی بارے میں فوج قبائلی علاقے سے نکل جائے:جرگہ07 April, 2006 | پاکستان سیمینار: فوجی آپریشن اور صوبائی خودمختاری20 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی چوکیوں پر حملے22 April, 2006 | پاکستان ’شمالی وزیرستان: ایک فوجی ہلاک‘ 29 April, 2007 | پاکستان پانچ سپاہی ہمارے قبضے میں: قبائلی18 April, 2006 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، پانچ زخمی04 May, 2007 | پاکستان وزیرستان: ’ گیارہ ہلاک‘13 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||