سزائے موت مؤخر کرنے کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپیل کی ہے کہ کال کوٹھری میں قید ایک نوجوان محمد منشاء کی سزائے موت پر عملدرآمد مؤخر کیا جائے کیونکہ کمیشن کے مطابق وقوعہ کے وقت اس کی عمر چودہ برس تھی اور پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے محمد منشا کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں جس کے مطابق انہیں انتیس مئی کو سنٹرل جیل ساہیوال میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ محمد منشا اور ان کے تین ساتھیوں کو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے اغوا اور قتل کے الزام میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی گئی تھی ،ہائی کورٹ نے ان کے تینوں ساتھیوں کو بری کر دیا جبکہ محمد منشا کی اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے مسترد ہوگئیں اور اس برس سترہ مارچ کو صدر پاکستان نے رحم کی اپیل بھی خارج کر دی۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں رابطہ کار علمدار حسین ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے معمول کے دورہ پر سینٹرل جیل ساہیوال گئے تو جیل انتظامیہ نے ان کی توجہ اس نوجوان کی جانب مبذول کروائی اور بتایا کہ چھ برس سے انہیں ملنے کوئی نہیں آیا آخری ملاقات ان کی ماں نے کی تھی جو بعد میں مرگئی جبکہ والد اس کی گرفتاری سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق محمد منشاء کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنےوالا کوئی نہیں تھا اور اسے جنوری سنہ دوہزار ایک میں ہونے والے ایک قتل کیس میں سزا سنائی گئی حالانکہ اس وقت وہ صرف چودہ برس کا تھا۔ اوکاڑہ میں انسانی حقوق کے کارکن عملدار حسین نے کہا کہ جب انہوں نے نوجوان سے ملاقات کی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اس سے معلومات حاصل کرکے انہوں نے اس کی آبائی گاؤں دیارام کے پرائمری سکول سے ان کی داخلے کا سرٹییفکٹ حاصل کیا اور مقامی یونین کونسل سے جنم پرچی لی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کی رہنما حنا جیلانی نے رجسٹرار کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک درخواست دی ہے جس میں ان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیں۔ علمدار حسین نے کہا کہ اس کی پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں اس لیے ان کی صدر پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ محمد منشا کی پھانسی کو مؤخر کردیں تاکہ ملک میں انصاف دینے والے ادارے ایک بار پھر اس لاوارث قیدی کے کیس کا جائزہ لے سکیں۔ پاکستان کی مختلف جیلوں میں اس وقت سات ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملک سے سزائے موت دیے جانے کا قانون ختم کر دیا جائے ۔ | اسی بارے میں جنسی زیادتی کے3 مجرموں کو پھانسی23 December, 2004 | پاکستان فیصل آباد میں چار افراد کو پھانسی29 June, 2006 | پاکستان سیالکوٹ میں پانچ افراد کو پھانسی12 July, 2006 | پاکستان اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی18 July, 2006 | پاکستان پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان پنجاب: دو مقدمے پانچ کو پھانسی27 February, 2007 | پاکستان کالعدم تنظیم کے رکن کو پھانسی09 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||