BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان سے جانے کا امکان نہیں‘

رونالڈ نیومین
رونالڈ نیومین کا کہنا تھا کہ ملا داد اللہ کی ہلاکت سے حالات کی بہتری میں کچھ مدد تو ضرور ملے گی
امریکی وزارت خارجہ کے افغانستان سے متعلق خصوصی ایلچی رونالڈ نیومین کا کہنا ہے کہ افغانستان حکومت کی جانب سے انہیں سرکاری سطح پر ملک چھوڑ دینے کی درخواست کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے۔

رونالڈ نیومین تقریبا دو ماہ قبل تک افغانستان میں امریکہ کے سفیر رہے اور ان دنوں وزارت خارجہ کے خصوصی ایلچی کے طور پر علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے بدھ کو سکیورٹی کونسل کے سکرٹری طارق عزیز، جعمیت علما اسلام کے فہد حسین، وزارت خارجہ کے سینر اہلکار ریاض احمد خان، اور فاٹا کے لیے وزیراعظم کے مشیر صاحبزادہ امتیاز اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغانستان میں حالیہ دنوں میں امریکی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر افغان حکومت کے غم وغصے سے متعلق اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے مگر میں نہیں سمجھتا کہ افغان حکام ایسی کسی منظم درخواست کا سوچ رہے ہیں جس میں ان سے ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہو‘۔

البتہ امریکی سفارت کار نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ یہ ناممکن بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اختتام ابھی دور ہے لیکن ہمیں اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا‘۔

طالبان کے اہم رہنما ملا داد اللہ کی ہلاکت کتنی اہم ہے، اس بارے میں رونالڈ نیومین کا کہنا تھا کہ اس سے حالات کی بہتری میں کچھ مدد تو ضرور ملے گی تاہم یہ نہیں کہہ سکتا کتنا فرق پڑے گا۔ ’ان کے دیگر رہنما ابھی موجود ہیں۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تاہم حالیہ کامیابیوں سے طالبان رہنماؤں پر واضع ہو جانا چاہیے کہ انہیں اپنی زندگی کی بیمہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے‘۔

انہوں نے واضع کیا کہ طالبان سیاسی عمل میں شامل تو ہوسکتے ہیں لیکن وہ حکومت میں شامل ہوکر اسے اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے امریکہ کے اس عزم کو دہرایا کہ وہ افغانستان میں ایک مضبوط حکومت اور اداروں کے قیام تک وہاں ہے اور اس کے بعد ہی جائے گا۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات مکمل طور پر تسلی بخش نہیں ہوئے لیکن گزشتہ برس سے اس میں بہتری ضرور آئی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ حالات کی بہتری کے لیے تمام فریقین کو زیادہ محنت سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
افغانستان کے گمنام ہیرو
18 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد