BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 18:44 GMT 23:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زاہد علی اکبر، دائمی وارنٹ جاری

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) زاہد علی اکبر
جنرل زاہد علی اکبر کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے
بدھ کو لاہور کی ایک احتساب عدالت نے واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) زاہد علی اکبر کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں دائر ریفرنس داخل دفتر کردیا ہے۔

زاہد علی اکبر کے خلاف قومی احتسب بیوور (نیب) نے ناجائز ذرائع آمدن سے اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر رکھا ہے ۔

لاہور کے رہائشی لیفٹیننٹ (ر) جنرل زاہد علی اکبر اس وقت ملک سے باہر ہیں اور عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

لاہور میں احتساب عدالت کے جج سید ناصر علی شاہ نے ریفرنس داخل دفتر کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زاہد علی اکبر کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ کارروائی شروع کی جائے۔

جنرل ریٹائرڈ زاہد علی اکبر کور کمانڈر راولپنڈی بھی رہ چکے ہیں۔

نیب کے گواہوں کے بیانات بدھ کو مکمل ہوگئے جس کے بعد نیب کے وکیل نے استدعا کی کہ مزید سرکاری گواہوں کے بیانات ملزم کی گرفتاری کے بعد قلم بند کیے جائیں۔

ریفرنس میں الزام لگایاگیا ہے کہ زاہد علی اکبر انیس سوستاسی سے انیس سو بانوے تک جب چیئرمین واپڈا اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تھے تو وہ کرپش اور بدعنوانی میں ملوث رہے۔

عدالت پہلے ہی زاہد علی اکبر کی ایک درخواست مسترد کرچکی ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ وہ بیماری کی وجہ سے پاکستان نہیں آ سکتے۔

نیب کے مطابق ان کے خلاف جو شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ زاہد علی اکبر کے ستتر بینک کھاتوں میں سترہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جمع ہیں۔

یہ بینک کھاتے یا تو زاہد علی اکبر یا ان کے قریبی رشتہ داروں یا ان کی مختلف کمپنیوں کے نام ہیں۔

نیب کے مطابق ان کے علاوہ زاہد علی اکبر نے انیس سو تراسی سے انیس سواٹھانوے تک سات لاکھ چھ ہزار دو سو ڈالر (جو چھالیس روپے فی ڈالر کی قیمت سے تین کروڑ چوبیس لاکھ روپے بنتے ہیں) ملک سے باہر منتقل کیے۔

نیب کے مطابق یہ اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اسی بارے میں
واپڈا مفاہمت: کریڈٹ کی جنگ
14 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد