BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 May, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکھ کی دکان میں نصب بم ناکارہ

باجوڑ میں ایک ہیئر ڈریسر کی دکان (فائل فوٹو)
باجوڑ میں گزشتہ دنوں ہیئر ڈریسرز کو دھمکیاں ملی تھیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک دکان میں نصب بم کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

پولٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بم صدرمقام سے تقریباً چھ کلومیٹر دور مقامی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے عنایت کلی میں ایک سکھ حکیم باباجی نریندر سنگھ کی دکان میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو رکھاگیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر انہوں نے پریشر کوکر میں رکھے بم کو ناکارہ بنا دیا۔

دوسری طرف بابا نریدر جی سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے قبل انہیں کوئی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ باجوڑ میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی سکھ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان کے ان قبائلی علاقوں میں جہاں پر مبینہ طور پر مذہبی شدت پسند تنظیموں کااثر و نفوذ زیادہ ہے وہاں پر اقلیتی برادری کو ہراساں کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل قبائلی علاقے باڑہ میں سکھ مذہب سے مسلمان ہونے والے ایک شخص شیخ دین محمد نے الزام لگایا تھا کہ علاقے میں سرگرم ایک شدت پسند تنظیم ’ انصارالاسلام‘ کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صحیح طورپر مسلمان نہیں ہوئے ہیں لہذا وہ تنظیم کے ’مسلک‘ کے مطابق دوبارہ اسلام قبول کریں۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں رات کا کرفیو
08 March, 2007 | پاکستان
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد