سکھ کی دکان میں نصب بم ناکارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک دکان میں نصب بم کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بم صدرمقام سے تقریباً چھ کلومیٹر دور مقامی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے عنایت کلی میں ایک سکھ حکیم باباجی نریندر سنگھ کی دکان میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو رکھاگیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر انہوں نے پریشر کوکر میں رکھے بم کو ناکارہ بنا دیا۔ دوسری طرف بابا نریدر جی سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے قبل انہیں کوئی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ باجوڑ میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی سکھ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان کے ان قبائلی علاقوں میں جہاں پر مبینہ طور پر مذہبی شدت پسند تنظیموں کااثر و نفوذ زیادہ ہے وہاں پر اقلیتی برادری کو ہراساں کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل قبائلی علاقے باڑہ میں سکھ مذہب سے مسلمان ہونے والے ایک شخص شیخ دین محمد نے الزام لگایا تھا کہ علاقے میں سرگرم ایک شدت پسند تنظیم ’ انصارالاسلام‘ کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صحیح طورپر مسلمان نہیں ہوئے ہیں لہذا وہ تنظیم کے ’مسلک‘ کے مطابق دوبارہ اسلام قبول کریں۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں رات کا کرفیو08 March, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار11 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں شیو بنوانے والے مایوس14 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، تین افراد زخمی18 May, 2006 | پاکستان باجوڑ بم دھماکہ، لیویز اہلکار ہلاک03 June, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج03 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||