بلوچستان: تین بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ کے مقام پرایک مکان میں دھماکے سے تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ڈیرہ بگٹی سے راکٹ داغنے کی اطلاعات موصول ہوئی لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مستونگ کے ڈپٹی سپرنٹڈنٹ پولیس نظر جان نے بتایا ہے کہ دھماکہ ایک کسان کے گھر کے اندر ہوا ہے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ دھماکہ باہر سے کوئی دستی بم پھینکنے سے ہوا ہے اور یا مکان کے اندر دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس خاندان کے افراد کی پرانی دشمنی چلی آرہی ہے اور اس سلسلے میں دونوں جانب سے لوگوں کوگرفتار کیا گیا ہے تاہم پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔ اس دھماکے سے دو سالہ نصیب اللہ پانچ سالہ امداد اللہ اور دس سالہ شاکرہ بی بی ہلاک ہو گئے ہیں ۔ اپنے آپ کو مسلح بگٹی قبائل کا ترجمان ظاہر کرنے والے وڈیرہ عالم خان نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی تین روز سے جاری کارروائی کے بعد آج صبح مسلح قبائلیوں نے ڈیرہ بگٹی میں قائم فرنٹیئر کور کی چوکیوں پر حملے کیے ہیں جس میں فورسز کا نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ یاد رہے کل رات مکران ڈویژن کے شہر مند میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال کے مکان سے کچھ فاصلے پر دھماکہ ہوا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔زبیدہ جلال کل ہی اپنے شہر مند پہنچی ہیں۔ | اسی بارے میں شاہد بگٹی اور ہمایوں مری نظربند16 July, 2006 | پاکستان بلوچستان آپریشن: تئیس قبائلی ہلاک09 July, 2006 | پاکستان ’ڈیرہ بگٹی پر فضائی حملے‘05 July, 2006 | پاکستان بلوچستان آپریشن میں اکتیس ہلاک05 July, 2006 | پاکستان ’ڈیرہ بگٹی میں دو مخبری پر ہلاک‘ 23 March, 2007 | پاکستان بجلی معطل اور دھماکوں کی آوازیں28 March, 2007 | پاکستان ’کارروائی ہوئی تو جان دیں گے‘08 April, 2007 | پاکستان مکران: FC اہلکار سمیت 5 ہلاک12 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||