شاہد بگٹی اور ہمایوں مری نظربند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری سینیٹر آغا شاہد بگٹی اور سابق وزیرِاعلٰی بلوچستان میر ہمایوں مری کو ان کےگھروں میں بغیر کسی تحریری حکم نامے کے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں بگٹی ہاؤس اور ہمایوں مری کے گھر کے باہر بڑی تعداد میں علی الصبح پولیس تعینات کر دی گئی۔ اس کے علاوہ کل سے کوئٹہ پریس کلب کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ آغا شاہد بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج صبح چار بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے ان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔ موقع پر موجود پولیس افسر نے شاہد بگٹی کو بتایا کہ وہ کہیں باہر نہیں جا سکتے۔ جب پولیس سے تحریری احکامات طلب کیئے تو انھوں نے کہا کہ انہیں اعلٰی حکام نے کہا ہے کہ ’ آپ کہیں باہر نہیں جا سکتے‘۔ میرہمایوں مری نے بھی یہی کچھ بتایا اور کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ حکومت آخر کیا کرنا چاہتی ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کوئی نظربندی نہیں ہے بلکہ دونوں افراد پولیس کے ہمراہ کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔رازق بگٹی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے جو تبدیلیاں آ رہی ہیں اور لوگ حکومت کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں اسی وجہ سے حفاظتی اقدام کے طور پر پولیس تعینات کی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ شاہد بگٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمعہ کو کراچی سے ان کے بھائی محمد بلال اور اسی روز شام کے وقت نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے مرتضی بگٹی کو سادہ کپڑوں میں افراد اٹھا کر لے گئے ہیں جبکہ تین ہفتے پہلے ان کے بھانجے جلال بگٹی کو اسی طرح بلوچستان سے اٹھایا گیا ہے۔ کوئٹہ میں پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے کل سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ | اسی بارے میں کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا گھیرا؟16 July, 2006 | پاکستان مزید 12 بگٹیوں نے ہتھیار ڈال دیئے 15 July, 2006 | پاکستان کیمپوں کیخلاف کارروائی کریں گے11 July, 2006 | پاکستان بلوچستان آپریشن: تئیس قبائلی ہلاک09 July, 2006 | پاکستان بھاری فوجی نقصان کا دعوٰی06 July, 2006 | پاکستان فضائی حملوں کے بعد خاموشی06 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||