بلوچستان میں ’فضائی کارروائی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر آواران کے قریب میری اور رخشان کے مقامات پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کی اطلاعات ہیں۔ آواران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے منگل کو میری اور رخشان کے علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ بیشتر اضلاع میں کشیدگی کی اطلاعات بھی ہیں۔ خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ترجمان ظاہر کرنے والے میرک بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ ان علاقوں پر بمباری سے خواتین سمیت سات چرواہے زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو رہی تاہم حکام نے بتایا ہے کہ صوبے کے بعض علاقوں میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن ہو رہا ہے لیکن حملے نہیں کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے منگل کی رات کوئٹہ میں چار دھماکے ہوئے لیکن کوئی جانی نققصان نہیں ہوا۔ بلوچستان میں مختلف مقامات پر بجلی کے چھ کھمبوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے جس سے صوبے کے سینتیس سے زائد گرڈ سٹیشن متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع بولان میں چار جبکہ کوہلو میں دو کھمبوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے صوبے کے بیشتر اضلاع کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی تاہم کوئٹہ کو مقامی سطح پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے ترجمان میرک بلوچ نے بولان کے علاقے میں بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے سریاب کے علاقے سے چھ افراد کو اٹھایا |
اسی بارے میں بلوچستان: دھماکے میں ایک ہلاک02 December, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جھڑپیں جاری ہیں08 January, 2007 | پاکستان بلوچستان: پانچ راکٹ داغے گئے26 January, 2007 | پاکستان بلوچستان دھماکے، ایک ہلاک07 March, 2007 | پاکستان بلوچستان میں فوج کے خلاف قرار داد19 March, 2007 | پاکستان بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے27 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||