ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | وزیرستان میں سینکڑوں پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں |
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں غیرملکیوں کے خلاف لڑنے والے عسکریت پسندوں کے رہنما مولوی نذیر نے امن کی کوششیں کرنے والے جرگے کو بتایا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کی مزید میزبانی کرنے سے قاصر ہیں۔ صدر مقام وانا سے دو روز کی ’کامیاب‘ مصالحتی کوششوں کے بعد واپس لوٹنے والے جرگہ رکن اور ممبر قومی اسمبلی مولانا معراج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ فریقین کے اس جیسے مطالبات اور خواہشات پر تفصیلی بات بعد میں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جرگے کی پہلی ترجیح علاقے میں جنگ بندی تھی جو انہوں نے حاصل کرلی۔ ’لڑائی کا سلسلہ اب آہستہ آہستہ قابو میں آ رہا ہے۔ اس پر نوے فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔‘ رکن قومی اسمبلی کے مطابق مولوی نذیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیرملکیوں کی بہت خدمت کی اور بس یہی کافی ہے اور انہیں اب کسی دوسری جگہ چلا جانا چاہیے۔ مولانا معراج الدین جے یو آئی کے گیارہ رکنی جرگے کے رکن کی حثیت سے وانا گئے تھے۔ تاہم انہوں نے ایک نجی ٹی وی کی اس خبر پر حیرت کا اظہار کیا کہ جرگہ ناکام لوٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب فریقین سے رابطے میں رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ علاقے میں واپس بھی جاسکتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مولانا معراج الدین نے حکومت کے جانی نقصانات کے بارے میں دعوی کو کچھ زیادہ بتاتے ہوئے کہا کہ جانیں اس تنازعے میں ضائع ہوئی ہیں تاہم شاید اتنی نہیں۔ ’بڑے پیمانے پر ہلاکتیں شاید نہ ہوئی ہوں۔‘ |