اٹھارہ سو پروازیں منسوخ و مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے جمعہ کو وقفۂ سوالات کے دوران تحریری طور پر پیش کردہ ایک سوال کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا کہ یکم جولائی سے اکتیس دسمبر سن 2006 کے دوران مختلف ہوائی کمپنیوں کی اٹھارہ سو سے زائد پروازیں مختلف وجوہات کی بناء پر منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی عذرا فضل پیچوہو کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرِ دفاع نے بتایا کہ چھ ماہ میں ملکی و غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کی اندرون و بیرون ملک 1813 پروازیں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے تمام منسوخ اور تاخیر کا شکار ہونے والی پروازوں کی فہرست ایوان میں پیش کی جس کے مطابق پاکستانی ائر لائن ’پی آئی اے‘ کی اندرون و بیرون ملک جانے والی 863 پروازیں فنی، تجارتی اور آپریشنل وجوہات کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ اس عرصے میں پاکستان اور دیگر ممالک کی نجی فضائی کمپنیوں کی 977 پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل پی آئی اے کے طیاروں کو عالمی معیار کے مطابق نہ رکھنے پر اس کی پروازوں کو یورپی یونین کے کئی ممالک میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یورپی یونین کی پابندی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے یہ ریاستی فضائی کمپنی شدید بحران سے دوچار رہی اور اچانک پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے مسافر خاصے پریشان رہے۔ ایک اور رکن اسمبلی شبیر احمد خان کے سوال پر وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ ملتان میں دس جولائی دو ہزار چھ کو فوکر طیارہ گرنے سے پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور پی آئی اے نے بیس لاکھ روپے فی شخص، مرنے والوں کے ورثا کو ادا کر دیے ہیں۔ ایک اور سوال پر راؤ سکندر نے بتایا ہے کہ فوکر طیاروں کی جگہ سات ATR 42-500 طیارے خریدے گئے ہیں جن میں سے تین پاکستان آچکے ہیں جبکہ باقی آئندہ ماہ یعنی مارچ میں پاکستان پہنچیں گے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں بھی سامان پر پابندیاں11 August, 2006 | پاکستان فوکر طیارے صرف باربرداری تک12 July, 2006 | پاکستان فوکر حادثہ: تحقیقات میں بیرونی مدد11 July, 2006 | پاکستان پاکستان میں فوکر طیاروں کے حادثے 10 July, 2006 | پاکستان ’طیارہ فوجی اڈے پرغلطی سےاترا‘16 December, 2005 | پاکستان پاکستانی طیارے میں آگ01 March, 2005 | پاکستان پاکستان: طیارے ٹکرانے سے بچ گئے23 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||