بھارت مثبت جواب دے :عمر فاروق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا دس روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد حریت کانفرنس کے وفد کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ حریت کانفرنس صدر جنرل پرویز مشرف کے چار نکاتی حل کی حمایت کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ بھارت اس کا مثبت جواب دے۔ لاہور ایئرپورٹ پر بھارت روانگی سے قبل میر واعظ نے بلال لون کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کشمیر کے حل کے بارے میں لفظ ’پرامید‘ کئی بار استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم بڑے پر امید ہیں کہ اس عمل کے ذریعہ کشمیر کا معاملہ حل ہوگا‘ اور یہ کہ اس دورے کے بعد ’ہم بڑے مطمئن ہیں اور مثبت سوچ لے کر جارہے ہیں۔’ میر واعظ نے کہا کہ حریت وفد کے اس دورے کا مقصد تھا کہ ایسے وقت میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے راستے تلاش کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں تو کشمیریوں کی پاکستان سے مشاورت اور بحث و تمحیص ہو۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کا موقف رہا ہے کہ اس مسئلہ پر کشمیری عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اٹھایا گیا کوئی قدم کشمیریوں کو قبول نہیں ہوگا۔ میر واعظ نے کہا کہ یہاں صدر مشرف سے ہونے والی بات چیت سے انہیں بڑی خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کے وفد کی صدر مشرف کے ساتھ ملاقاتوں میں کشمیر کی صورتحال اور بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی فارمولہ پر سیر حاصل بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’حریت کانفرنس صدر مشرف کے چار نکاتی فارمولہ کی حمایت کرتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں صدر مشرف کا چار نکاتی پروگرام ایک اچھی صورتحال پیدا کرسکتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت ان کا مثبت جواب دے‘۔ میر واعظ نے کہا کہ حریت یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر کے حل پر مرحلہ وار آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ چار نکاتی فارمولا عبوری طور پر آگے بڑھنے کے لیے اچھی صورتحال پیدا کرسکتا ہے جس کے کچھ عرصہ بعد دیکھا جائے کہ اس کا کیسا ردعمل ہوا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ حریت کو پاکستان کی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں سے بھی بات چیت کرنے کا موقع ملا اور تمام حزب اختلاف کا خیال ہے کہ مذاکراتی عمل کو مضبوط کرنے اور کشمیریوں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات پر حزب اختلاف مزید بحث و تمحیص چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت انہیں اعتماد میں لے۔ انہوں نے کہا کہ حریت نے یہ بات صدر مشرف تک پہنچائی ہے اور ان سے کہا ہے کہ حکومت اور صدر پرویز مشرف انہیں اور پارلیمنٹ کو اس بارے میں اعتماد میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور حریت کانفرنس کے درمیان بہت سے معاملات پر مفاہمت طے پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سب سے اہم مفاہمت یہ ہے کہ دونوں طرف مظفرآباد میں اور سری نگر میں کشمیر کے اندر بات چیت کے عمل کے لیے رابطہ گروپ اور ورکنگ گروپ بنائے جائیں۔ میر واعظ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صدر مشرف کی تجاویز کو کشمیر کے لوگوں تک پہنچایا جائے اور لوگ ان کی روح کو سمجھیں۔ میر واعظ نے کہا کہ کشمیری بھی بات چیت کا حصہ بن گئے ہیں اور وہ دونوں ملکوں کو اپنے خیالات سے بھی آگاہ کریں گے۔ کشمیر میں چار نکاتی حل کی مخالفت اور علی گیلانی کے بارےمیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ کشمیر میں مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بہت بڑی ہے اور افراد کی سوچ کی اہمیت نہیں جبکہ یہ تحریک بہت بڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری لوگ اپنی قیادت کی طرف بڑی امید سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ انہیں عذاب اور مشکلات سے نکالنے کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔ ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ دھونس اور دباؤ سے حل نہیں ہوگا بلکہ مفاہمت سے حل ہوگا۔ میر واعظ نے کہا کہ سری نگر پہنچنے کے بعد حریت اس دورہ کا تجزیہ کرے گی اور اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ پاکستان پہنچنے پر میر واعظ نے کہا تھا کہ کشمیر کا حل فیصلہ کن مرحلہ میں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ دو تین ماہ میں کسی بڑی کامیابی کا امکان ہے۔ چند ماہ پہلے گزشتہ سال اکتوبر میں میر اعظ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ جلد پاکستان جائیں گے اور اس سے قبل وہ خود اسلام آباد جاکر مشرف حکومت کو کشمیر کے ’زمینی حالات سے آگاہ کریں گے‘۔ اٹھارہ جنوری کو کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد میں میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ بلال غنی لون اور عبدالغنی بھٹ بھی پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ سنیچر کو واپسی کے وقت میر واعظ کے ساتھ عبدالغنی بھٹ موجود نہیں تھے جو اپنے عزیزوں سے ملاقات کے بعد واپس جائیں گے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں میر واعظ عمر فاروق اور حریت قیادت کا یہ پاکستان کا تیسرا دورہ تھا۔ | اسی بارے میں ہندوستان کا رویہ بدل رہاہے:میر واعظ18 January, 2007 | پاکستان حریت وفد لاہور پہنچ گیا18 January, 2007 | پاکستان اسلام آباد میں کشمیر کیلیے مظاہرہ19 January, 2007 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر کا حل جلد متوقع‘ 19 January, 2007 | پاکستان ’تنازعۂ کشمیر کا حل سیاست میں‘20 January, 2007 | پاکستان کشمیری وفد کے قیام میں توسیع21 January, 2007 | پاکستان اس بار بھارت پر الزام نہیں16 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||