BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 January, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈمہ ڈولا کی برسی، احتجاجی مظاہرہ

احتجاجی مظاہرہ( فائل فوٹو)
احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سنیچر کو ہزاروں مظاہرین نےگزشتہ برس تیرہ جنوری کو ڈمہ ڈولا کے مقام پر امریکی بمباری میں تیرہ افراد کی ہلاکت کے واقعے کی برسی کے موقع پر پُرزور احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین ’الجہاد، الجہاد‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

جماعت اسلامی کے زیراہتمام یہ مظاہرہ باجوڑ کے صدر مقام خار سے تقریبا بارہ کلومیٹر دور عنایت کلی میں منعقد کیا گیا۔

اس مرتبہ اس مظاہرے میں نہ تو حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں مطلوب مولانا فقیر محمد شریک ہوئے اور نہ اسامہ یا ملا محمد عمر کی حمایت میں کوئی نعرے لگے۔ تاہم مظاہرین نے امریکی صدر بش کا پتلا نذر آتش کیا۔ مظاہرے میں امریکی بمباری کے متاثرین بھی شریک تھے۔

مظاہرے سے جماعت اسلامی کے مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید اور باجوڑ کے امیر سردار خان کے علاوہ مقامی قبائلی عمائدین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے واضح کیا کہ انہوں نے ان افراد کا خون بھلایا نہیں اور وہ اس کے لیے امریکہ کو معاف نہیں کریں گے۔

باجوڑ کےگاؤں ڈمہ ڈولا میں گزشتہ برس تیرہ جنوری کو رات تین بجے امریکی طیاروں نے تین مکانات کو بمباری کر کے تباہ کر دیا تھا اور اس واقعے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی تھے

ایک برس گزر جانے کے باوجود نہ تو حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی ضرورت محسوس کی اور نہ پارلیمنٹ میں کوئی بااختیار کمیٹی بنی جو اس واقعے کے اصل حقائق عوام کے سامنے لا سکتی۔ تاہم حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں ہرجانے کی کچھ رقم ضرور تقسیم کی تھی۔

بمباری کے بعد مختلف ذرائع یہ خبریں فراہم کرتے رہے کہ یہ حملہ القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری اور چند دیگر اہم اراکین کی علاقے میں موجودگی کی اطلاع پر کیے گئے تھے۔ مقامی قبائلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے سب کے سب مقامی شہری تھے۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

باجوڑ افغانستان کے مشرقی صوبے کنہڑ کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ کنہڑ میں القاعدہ اور طالبان کافی سرگرم ہیں اور اتحادی فوجی حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ڈمہ ڈولا کے بعد گزشتہ تیس اکتوبر کو پاکستانی فوج نے قریب ہی ایک مدرسے پر حملہ کیا جس میں اسی افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد