BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 January, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں ضمنی انتخاب مکمل

جماعت اسلامی اس انتخاب کی منسوخی کے لیئے تحریک چلا رہی تھی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب بدھ کو جماعت اسلامی کے احتجاج کے باجود پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ اس وقت ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ خواتین نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔

حکام کے مطابق کافی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے آئے تاہم آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد ماضی سے کم رہی۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ ہارون رشید کی جانب سے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری اور اسی افراد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

جماعت اسلامی نے اس نشست پر ضمنی انتخاب بھی نہ ہونے کی دھمکی دی تھی۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے اس انتخاب کی منسوخی کے لیئے تحریک چلا رہی تھی۔

منگل کی رات نامعلوم افراد نے کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز کی چوکیوں اور پولنگ سٹیشنوں پر راکٹ داغے جن سے دو لیویز اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

نشست کے لیئے پولنگ بدھ کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو شام پانچ بجے تک پرامن طریقے سے جاری رہی۔ کسی بھی علاقے سے کسی پرتشدد واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جماعت اسلامی نے اپنے احتجاج کا سلسلہ آج بھی جاری رکھا اور مارچ کے علاوہ دھرنے دیئے۔ اسی قسم کا سیاہ پرچموں کا ایک احتجاجی مظاہرہ پشاور میں بھی پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا۔ مظاہرین نے حکومت اور امریکہ مخالف نعرہ بازی کی۔

ہارون رشید کا احتجاج
قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ ہارون رشید کی جانب سے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری اور اسی افراد کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

باجوڑ کے پولیٹکل ایجنٹ شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولنگ سٹیشنوں پر رش نظر آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کہیں بھی کوشش نہیں کی گئی۔

باجوڑ میں دو ہزار دو کے عام انتخابات میں اکیس فیصد ووٹ پڑے تھے اور پولیٹکل ایجنٹ کے بقول اس مرتبہ بھی یہ تعداد اس جتنی اگرچہ نہیں تو اس کے قریب ضرور ہوگی۔

مقامی انتظامیہ نے حساس پولنگ سٹشنوں پر بڑی تعداد میں لیویز اور ایف سی اہلکار تعینات کر دیے تھے۔ حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی پولنگ سٹیشن بھی دوسرے مقامات پر منتقل کر دیئے تھے۔

شکیل قادر نے بتایا کہ بظاہر ووٹروں اور پولنگ عملے کو اس انتخاب سے دور رکھنے کی دستی اشتہار کی تقسیم کے ذریعے کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

حکومت نے خواتین کی ووٹنگ کے لیے پورے انتظامات کیئے تھے لیکن ووٹ ڈالنے کوئی نہیں آیا۔

جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین اور مسلم لیگ ق کے سید بادشاہ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد