BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوشہرہ:جلسے میں دھماکہ، دس زخمی

سکیورٹی
خار میں آج بھی سکیورٹی دستوں نےگشت جاری رکھا (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے نوشہرہ میں منگل کی سہ پہر جماعت اسلامی کے ایک جلسہ عام میں دو بم دھماکوں اور اس کے نتیجے میں مچنے والی بھگدڑ میں دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور سے تقریبا پینتالیس کلومیٹر مشرق میں یہ دھماکے نوشہرہ شہر کے شعبہ چوک میں جلسے کے اردگرد مین ہول میں رکھے گئے دھماکہ خیز مواد سے ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں سے تین افراد بری طرح جھلس گئے جبکہ باقی اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی بھگدڑ میں زخمی ہوئے۔

جماعت اسلامی کا یہ جلسہ قبائلی علاقے باجوڑ میں کل منعقد کیئے جانے والے ضمنی انتخاب کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ جماعت نے اس انتخاب کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے ایک اخباری کانفرنس میں حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو ان دھماکوں کا ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حربوں سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں بدھ کو ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے حکومت نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔باجوڑ کے صدر مقام خار میں منگل کو بھی سکیورٹی دستوں نےگشت جاری رکھا اور اہم شاہراہوں پر بکتر بندگاڑیاں بھی گشت کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے حساس پولنگ سٹشنوں پر بڑی تعداد میں لیویز اور ایف سی تعینات کر دی ہے جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی پولنگ سٹیشن متبادل مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

 مقامی انتظامیہ نے حساس پولنگ سٹشنوں پر بڑی تعداد میں لیویز اور ایف سی تعینات کر دی ہے جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی پولنگ سٹیشن متبادل مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

جماعت اسلامی جس نے یہ نشست گزشتہ اکتوبر میں باجوڑ کے ایک مدرسے پر حکومتی بمباری میں اسّی افراد کی ہلاکت کے بعد بطور احتجاج خالی کر دی تھی ضمنی انتخاب منسوخ کرانے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید نے منگل کو بھی شہر میں پارٹی کارکنوں کے ہمراہ ضمنی انتخاب کے خلاف مارچ کیا۔ مظاہرین نے سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ہارون رشید سے جب پوچھا گیا کہ وہ باجوڑ کے عوام کو بائیکاٹ کے لیے کتنا تیار کر پائے ہیں تو ان کا کہنا تھا وہ ان انتخابات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں اور پرامن احتجاج کل بھی جاری رہے گا۔

جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کے شہاب الدین اور مسلم لیگ (ق) کے سید بادشاہ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

شہاب الدین آج کل حج کے لیے ملک سے باہر ہیں اور ان کی غیرموجودگی میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اور مقامی رہنما ان کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ ان کا دعوی ہے کہ انہیں باجوڑ کے تمام قبائل کی حمایت حاصل ہے اور یہ مقابلہ ترقی پسند اور اقتدار پسند قوتوں کے درمیان ہے۔

ادھر، نامعلوم افراد کی جانب سے علاقے میں دستی اشتہار بھی تقسیم ہوئے ہیں جن میں لوگوں اور پولنگ کے عملے کو ووٹنگ سے دور رہنے کے لیئے کہا گیا ہے اور ووٹ ڈالنے والوں کو سخت ردعمل کی دھمکی بھی دی ہے۔ مقامی انتظامیہ ان اشتہاروں کو ایک سازش قرار دے رہی ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد