بیرونی دباؤ میں سزا تبدیل ہوئی: ورثا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرزا طاہر احمد کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر مقتول ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کے ورثا نے کہا ہے کہ فیصلہ بیرونی دباؤ میں تبدیل کیا ہے ۔ مقتول جمشید خان کے چچا صحبت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کی طرف سے مزرا طاہر احمد کو معاف نہ کرنے کا فیصلہ اٹل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’تھوک کر چاٹا نہیں جاتا ہم نے ایک دفعہ انکار کر دیا تھا تو پھر اقرار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘ صدر کی طرف سے پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا ’ہم غریب لوگ ہیں،غریب کا کیا رد عمل ہو سکتا ہے۔ ہم تو مظلوم خاندان ہیں ہم نے پیٹ کاٹ کر اٹھارہ سال تک اپنے بیٹے کا مقدمہ لڑا۔ اللہ نے اور اعلی عدالتوں نے ہمیں انصاف دیا لیکن اسے بیرونی دباؤ میں بدل دیا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا اور بیرونی دباؤ پر ان کو بدل دینا ہے تو پھر ان کو عدالتوں کو رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ان کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملزم طاہر کی سزا کو بدل کر پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ایک سوال پر کہ مرزا طاہر احمد جو اٹھارہ سال سے جیل میں ہے، اس کو پھانسی پر لٹکا کر ان کو کیا ملتا، تو صحبت خان نے کہا’ہماری تسلی ہو جاتی۔‘ انہوں نے کہا مرزا طاہر نے اٹھارہ سال اپنی صفائی میں گزارے اور وہ سوچتا تھا کہ وہ پونڈوں کے زور پر جیت جائے گا۔ ’ہمارے پاس بہت سارے لوگ آئے ہیں، جرگے کیے ہیں، رشوت دینے کی پیشکش کی گئی لیکن ہمارا فیصلہ یہی تھا کہ ہم اسے معاف نہیں کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اب ان کے پاس رونے دھونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔’ غریب کی اوقات بھی کیا ہوتی ہے۔‘ | اسی بارے میں پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل16 November, 2006 | پاکستان مرزا کا مقدمہ: حصہ اول10 November, 2006 | پاکستان ’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘11 November, 2006 | پاکستان ’یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے‘21 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر حسین کی بلیئر سے اپیل06 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟20 October, 2006 | پاکستان قصاص و دیت اور فوجداری نظام23 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||