ڈیل نہ ڈائیلاگ: اے آر ڈی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ یا اے آر ڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت سے ڈیل یا ڈائیلاگ نہیں کریں گے۔ یہ اعلان اتحاد کے ایک اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے دفتر میں نیوز بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں اقبال ظفر جھگڑا اور سید ظفر علی شاہ نے کیا۔ اے آر ڈی کا اجلاس پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہوا لیکن بریفنگ میں ان سمیت جماعت کا کوئی سرکردہ رہنما موجود نہیں تھا۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ اجلاس میں بلوچستان، باجوڑ اور وزیرستان میں فوجی کارروائیوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ چند فوجی جرنیل اقتدار کی خاطر فوج کو عوام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جس سے فوج بطور ادارہ کمزور ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ ان کے ایسے الزامات کو حکومت مسترد کرتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں فوجی کارروائی قومی مفاد میں کرتی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے بتایا کہ اجلاس میں منظور کردہ ایک قرار داد میں متفقہ طور پر کہا گیا ہے کہ فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں شفاف انتخابات نہیں ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ صدر مشرف کی موجودگی میں انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ بعد میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ فوجی حکومت سے جان چھڑانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیئے دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس اتحاد میں شامل پاکستان کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ماضی میں ایک دوسرے کے سخت حریف رہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے سربراہان بینظیر بھٹو اور نواز شریف دو دو بار وزیراعظم رہے اور ان دنوں جلاوطن ہیں۔ پیپلز پارٹی کے صدر مشرف کی حکومت سے بات چیت ہوتی رہی ہے اور وہ ڈائیلاگ کی حامی رہی ہے جبکہ مسلم لیگ نواز صدر مشرف سے رابطوں کی سخت مخالفت کرتی آئی ہے۔ زنا کے متعلق اسلامی قوانین حدود آرڈیننس میں ترمیم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملات میں پیپلز پارٹی اور حکومت میں ہم خیالی پائی جاتی ہے جبکہ مسلم لیگ موجودہ حکومت کی ہر طرح کی مخالف ہے۔ ایسے میں ایک اتحاد میں شامل دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی دیتے رہے ہیں لیکن بعد میں صلح صفائیوں کے بعد ملاجلا حل کیا جاتا رہا ہے اور تاحال اتحاد برقرار ہے۔ | اسی بارے میں اے آر ڈی:انتخابی اتحاد کا اعلان 27 June, 2005 | پاکستان اے آر ڈی: مسلم لیگ غیر حاضر23 April, 2005 | پاکستان ایم ایم اے، اے آر ڈی جدوجہد07 March, 2005 | پاکستان فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی 31 October, 2005 | پاکستان لاہور: اے آر ڈی ریلی روک دی گئی08 January, 2006 | پاکستان ’مشرف اے آر ڈی سے بات کریں‘24 April, 2006 | پاکستان اے آر ڈی میں ایم ایم اے اور دیگر30 April, 2006 | پاکستان اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||