BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 23:52 GMT 04:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کی چھتیں مچھروں کا ٹھکانہ

ڈینگی وائرس سے کراچی میں کئی لوگ ہلاک ہوگئے
پنجاب کے وزیرصحت نے کسی ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کی اسی فیصد چھتوں پر پرانے ٹائر پڑے ہیں جو مچھروں کی پرورش کا بہترین ٹھکانہ ہیں۔

وہ سنیچر کو پاکستان میں ڈینگی وائرس کے بارے میں ہونے والی پہلی قومی کانفرنس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

علامہ اقبال مڈیکل کالج کے آڈیٹوریم میں ہونے والی اس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے طبی ماہرین، نرسنگ سٹاف، پنجاب کے تمام ضلعی صحت افسر اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے منتظمین نے شرکت کی۔

طبی ماہرین نے تحقیقات مقالے پڑھے جن میں بتایا گیا کہ ڈینگی کے ایک نہیں چار قسم کے وائرس ہیں جو ایک خاص نسل کے دھاری دارمچھر سے پھیلتے ہیں اس لئے علاج سے زیادہ بچاؤ کے اقدامات پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

تاہم صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر طاہر جاوید نے کہا کہ اگر شہر کے ہر کونے میں بھی سپرے کر دیا جائے تو تب بھی اس خطرناک مچھر کو لے جانے والے وائرس سے نجات نہیں مل سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اس خاص قسم کے مچھر کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ گھر کے اندر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے۔ پودوں کے گملوں میں، منی پلانٹ کی بوتلیں، باتھ روم میں فلش کی اور چھت پر پانی کی ٹینکی ان کے مسکن ہیں۔

کانفرنس میں کوئی بارہ سو افراد نے شرکت کی جن میں نرسنگ سٹاف اور میڈیکل طلبہ کے علاوہ بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر فخر امام نے کانفرنس کےشرکاء کو بتایا کہ مچھر دانی بھی اس کا حل نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول یہ دن کا مچھر ہے جو دن ہی میں حملہ آور ہوتا ہے جب انسان اس کے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں لڑا رہا ہوتا۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے بلاجواز اس کی تشخیص کی کٹ منگوانے پر کروڑوں روپے خرچ نہیں کیے کیونکہ ان کے بقول ایک تو یہ ٹیسٹ لاہور سے ہوجاتے ہیں دوسرے سردی کی ایک لہر ان مچھروں کا خاتمہ کر دے گی۔

محکمہ صحت کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ دوہفتے بعد سردی کی لہر آئی تو اس مچھر کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے آپریشنل آفیسرڈاکٹر عصمت اللہ چودہری نے کہا کہ ڈینگی کا مچھر زیادہ سخت جان ہے، عام مچھر اٹھارہ سینٹی گریڈ میں مرجاتا ہے لیکن یہ دس سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے موسم میں بھی زندہ رہتا ہے۔

انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ یہ لوگوں کے گھروں کے اندر رہتا ہے اس لئے اس تک سردی دیر میں پہنچتی ہے۔

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر طاہر جاوید نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں ڈینگی وائرس کے اب تک انسٹھ مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں سے پینتالیس کا تعلق صرف راولپنڈی سے ہے۔

سیمینار میں شریک انفیکشن امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈینگی وائرس کا موجودہ حملہ پریشان کن ہے لیکن اگلے برس اس کا حملہ زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈینگی بخار کا نشانہ بننے سے اگرچہ کراچی میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن پنجاب میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اس بار بالفرض ڈینگی کے ایک قسم کے وائرس کے شکار آرہے ہیں تو اگلے سال اگر اس وائرس نے دوبارہ جنم لیا تو پھر اس سے اگلا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے جو ہمرجک بخار کا سبب بنتا ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی قومی کانفرنس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ اچانک پھوٹ پڑنے والی وباؤں کے انسداد اور ان کے جرثوموں پر تحقیقات کے لئے ایک سائنٹیفک کمیٹی کی جائے جن میں طبی ماہرین اور محقیقین کے علاوہ حکومتی اور انتظامی افسران بھی میں شامل ہوں۔

اسی بارے میں
ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک
14 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد