پاکستان: ڈینگی بخار سے 31 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کے دن ایک دس سالہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ پانچ ماہ میں صوبہ سندھ میں ڈینگی بخار سے مرنے والوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے جن میں سے اٹھائیس افراد کا تعلق کراچی اور تین کا اندرون سندھ سے ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق ملک بھر میں اب تک سات سو چھتیس افراد میں خون کے نمونوں کے ٹیسٹ اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نصیر خان کے مطابق ملک بھر میں دو ہزار دو سو چھیاسی افراد ڈینگی وائرس کے مشتبہ مریض ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں جن میں سے سات سو چھتیس افراد میں اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ سندھ محکمہ صحت کے ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈینگی بخار پر فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق جمعرات کو کورنگی ٹاؤن کی رہائشی ایک دس سالہ لڑکی فائقہ کراچی میں ڈینگی بخار کے باعث ہلاک ہوگئی۔یہ لڑکی کراچی میں قومی ادارہ صحت اطفال میں زیر علاج تھی۔ دو دن پہلے کراچی کے آغا خان ہسپتال میں حیدرآباد کا رہائشی عظیم شیخ ڈینگی بخار کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ جون سے اب تک سندھ میں سات سو افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک صوبہ میں ستاون افراد کے ڈینگی بخار ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے بارہ مریض لاہور کے ہسپتالوں اور چالیس سے زیادہ راولپنڈی میں زیر علاج ہیں۔ تاہم پنجاب میں اب تک اس بخار سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لاہور میں ڈینگی بخار کے مریضوں کا تعلق مصری شاہ، ڈیفنس اور سنت نگر کے رہائشی علاقوں سے ہے اور وہ شیخ زائد ہسپتال اور گنگا رام ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پنجاب کے صوبائی وزیر صحت طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ صوبہ میں ڈینگی بخار پھیلنے کی رفتار کراچی جیسی نہیں ہے اور سردی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس بخار کو پھیلانے والے مچھر کی سرگرمی کم ہوجائے گی۔ کراچی کے بعد ڈینگی بخار کے سب سے زیادہ مشتبہ مریض راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں جہاں ان کی تعداد ایک سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ کراچی اور راولپنڈی میں ڈینگی ہیمرجک بخار کے وبائی صورت اختیار کرنے کے بعد وفاقی حکومت نے ڈینگی بخار کی تشخیص اور علاج میں استعمال ہونے والی تمام مشینری پر سے کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کردیا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے کہا ڈینگو بخار سے بچاؤ کے لیے مچھر مار اسپرے کے حکومتی اقدامات کافی نہیں اور اس بخار کے علاج کے لیے ضروری ادویات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں مچھر مار اسپرے کیے جارہے ہیں جبکہ ملک کے دوسرے شہروں میں اسپرے مشینیں دستیاب نہیں۔ | اسی بارے میں ڈینگی فیور: گیارہ سو سے زائد متاثر21 October, 2006 | پاکستان ڈینگی وائرس سے 400 افراد متاثر24 October, 2006 | پاکستان ڈینگی سے ہلاکتیں اٹھائیس ہوگئیں30 October, 2006 | پاکستان ڈینگو وائرس سے 38 افراد ہلاک05 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||