بریگیڈئر کے بیٹے سمیت تین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی رہائش گاہ، پارلیمان اور آئی ایس آئی کے دفاتر کے قریب راکٹ نصب کرنے کے سلسلے میں ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر کے بیٹے سمیت پولیس نے تین مزید ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ اسلام آباد کے ایس ایس پی سکندر حیات نے تینوں ملزمان کو ایک ٹیوٹا کار سمیت گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ راکٹ برآمدگی کے اس کیس میں اب گرفتار ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہوچکی ہے۔ گرفتار شدگان کے نام محمد خلیل، منیر احمد اور علی احمد بتائے جاتے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ان میں سے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر جو کہ ڈینٹسٹ ہیں ان کا بیٹا ہے۔ اس بارے میں جب وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے کہ گرفتار ہونے والا ایک نوجوان برگیڈیئر کا بیٹا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک اہم ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ پولیس حکام کے حوالے سے مقامی اخبارات نے ایئر فورس کے دو جونیئر حاضر سروس ملازمین کی گرفتاری کی خبریں بھی شائع کی تھیں لیکن ایئر فورس کے ترجمان نے اس کی تردید کی تھی۔ واضح رہے کہ تیرہ اکتوبر کو وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز راولپنڈی اور اسلام آباد میں راکٹ برآمد کیے جانے کے سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار شدگان سے سیکورٹی فورسز پوچھ گچھ کر رہی ہیں اور ابتدائی تفتیش سے اشارے ملے ہیں کہ ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ وزیر نے کہا تھا کہ تمام گرفتار شدگاں پاکستانی ہیں اور ان میں ان میں کوئی بڑا فراری ملزم شامل نہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ ایوب پارک راولپنڈی میں ایک راکٹ پھٹا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی رہائش گاہ کے قریب واقع ایوب پارک سے ان کے مطابق چار راکٹ برآمد ہوئے جبکہ پارلیمان اور آئی ایس آئی کے دفتر کے سامنے سے دو دوراکٹ ملے تھے جو ناکارہ بنائے گئے تھے۔
وزیر کے مطابق ان ملزمان کا ایک ہی گروہ ہے اور انہوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں راکٹ نصب کرنے کے لیے گاڑی بھی ایک ہی استعمال کی تھی ۔ ان کے بقول ملزمان کی گرفتاری ان کے موبائیل فونز کو ’ٹریس‘ کرنے سے عمل میں آئی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ٹینک شکن راکٹ mm107 کے روسی ساخت کے تھے اور جس طرح نصب کیے گئے تھے وہ اگر وہ چل جاتے تو کسی مخصوص حدف کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ جہاں گرتے وہاں پھٹ سکتے تھے۔ وزیر نے بتایا کہ پارلیمان کے سامنے جو دو راکٹ برآمد ہوئے وہ موبائیل فون سے جڑے تھے اور ریموٹ کنٹرول سے چلائے جانے تھے۔ ان کے مطابق جو موبائیل فون وہاں سے ملے ان کے مالکان تک رسائی کے بعد ملزمان کو پکڑا گیا۔ صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ایک فراری فوجی علی احمد اور اسلام آباد کے علاقہ گولڑہ کے رہائشی طالبعلم ندیم احمد یوسف کو راولپنڈی سےگرفتار کیے جانے کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ وہ گرفتار شدگان میں سے کسی کے نام کی تصدیق نہیں کرسکتے کیونکہ اس سے تفتیش متاثر ہوگی۔ |
اسی بارے میں مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل22 September, 2006 | پاکستان مشرف پر حملہ، مجرم منتقل27 August, 2005 | پاکستان راولپنڈی:ایوب پارک میں بم دھماکہ 04 October, 2006 | پاکستان مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت14 December, 2003 | پاکستان ’پانچ بم استعمال کیے گئے‘16 December, 2003 | پاکستان مشرف حملہ، مجرم کی اپیل مسترد14 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||