BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 October, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو کمانڈر پاکستان پہنچ گئے

افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈز اور افغان صدر حامد کرزئی
افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈز افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ
افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈز پیر کو دو روزے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ چکلالہ ایئر بیس پر پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل عارف حیات نے ان کا خیر مقدم کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کمانڈر پاکستان فوج کے سینیئر افسران کے علاوہ صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی منگل کے روز ملاقات کریں گے۔

نیٹو کمانڈر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں تعاون اور پاکستان سے طالبان کی مبینہ حمایت کے معاملے پر بات کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق نیٹو کے کمانڈر جنرل مشرف سے کہیں گے کہ وہ پاکستان میں موجود طالبان کمانڈرز کو گرفتار کریں اور پاکستان سے ان کی سرگرمیوں کی حمایت کو روکنے کی کوشش کریں۔

برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ، نیٹو اور افغان خفیہ اداروں کی معلومات کے مطابق طالبان کے مطلوب رہنما ملا عمر کوئٹہ میں رہ رہے ہیں۔ یہ معلومات گرفتار ہونے والے طالبان جنگجوؤں اور خودکش حملوں میں نا کام ہو جانے والے گرفتار افراد سے ملی ہیں۔ ان افراد نے کوئٹہ میں ایک خاص گھر کا پتہ بھی بتایا ہے۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ اب بھی طالبان کی حمایت کر رہی ہے۔ جنرل مشرف نے ان الزامات کی تردید کی تھی تاہم بعد میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ماضی میں اس ادارے سے وابستہ لوگ آج کل ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

طالبان کے لیئے عوامی ہمدردی بڑھ سکتی ہے‘
اس سے پہلے جنرل رچرڈز نے کہاتھا کہ اگر اگلے چھ ماہ میں افغانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو ان کی اکثریت کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہو جائیں گی۔

نیٹو کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے کہا کہ افغانستان ایک اہم موڑ پر ہے۔

سن دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نےافغانستان کی تعمیر نو کا وعدہ کیا تھا لیکن اب بھی لاکھوں لوگ انتہائی بدترین حالات میں عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

طالبان ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں دوبارہ اثرورسوخ حاصل کرتے جا رہے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں خودکش حملوں کی تعداد گزشتہ سال ہونے والے اکیس دھماکوں کے مقابلے میں بڑھ کر نوے ہوگئی ہے۔

نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی معاہدۂ شمالی بحرِ اقیانوس کی تنظیم یا نیٹو میں اس وقت چھبیس ملکوں کی افواج شامل ہیں اور سنہ دوہزار ایک میں امریکہ کے ہاتھوں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تیس ہزار سے زیادہ نیٹو فوجی ملک میں امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد