BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبہ سرحد: ایف آئی اے کی مہم

کارروائی میں برآمد کی گئی سینکڑوں کی تعداد میں جعلی دستاویزات اور سرکاری مہریں بھی آج صحافیوں کو دکھائی گئیں
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے نے جمعے کے روز سے صوبہ سرحد میں جعلی کرنسی، دستاویزات اور ادویات کے خلاف ایک خصوصی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد اس علاقے سے اس کاروبار کا خاتمہ ہے جس سے کافی بدنامی ہو رہی ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی ادارے نے گزشتہ چند دنوں میں دو چھاپوں میں بڑی تعداد میں جعلی ادویات اور دستاویزات قبضے میں لی ہیں۔ اس بابت دو افغان باشندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

صوبائی دارلحکومت میں گل حاجی پلازہ میں ایک دفتر کے خلاف کارروائی میں برآمد کی گئی سینکڑوں کی تعداد میں جعلی دستاویزات اور سرکاری مہریں بھی آج صحافیوں کو دکھائی گئیں۔ ان میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی ایک اہم مہر بھی تھی جب کہ افغان وزارت دفاع کے جعلی کارڈز بھی ان میں شامل تھے۔

اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد شہر میں بھی ایک کارروائی میں بڑی تعداد میں جعلی ادویات قبضے میں لی گئی ہیں۔

پشاور میں ایف آئی اے کے نئے تعینات ڈائریکٹر عبدالقدیر بھٹی نے بتایا کہ وہ وزیراعظم اور دیگر اعلی حکام کی ہدایت پر یہ کارروائی شروع کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی سے یہ مہم اس لیئے مختلف ہوگی کہ اس دوران وہ جعل سازی کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر خصوصی توجہ دیں گے۔ ’اس سے ہماری بین القوامی سطح پر بدنامی ہوتی ہے لہذا اس کاروبار کا سدباب ضروری ہے‘۔

دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے انسداد دہشت گردی یونٹ کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی میں امریکہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔

دو چھاپوں میں بڑی تعداد میں جعلی ادویات اور دستاویزات قبضے میں لی ہیں

صوبہ سرحد اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں جعل سازی کا کام ملک کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایف آئی اے حکام اس سلسلے میں کوئی اعدادوشمار تو نہیں دے سکے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار کافی بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔

کا اعلان کیا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد اس علاقے سے اس کاروبار کا خاتمہ ہے جس سے کافی بدنامی ہو رہی ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی ادارے نے گزشتہ چند دنوں میں دو چھاپوں میں بڑی تعداد میں جعلی ادویات اور دستاویزات قبضے میں لی ہیں۔ اس بابت دو افغان باشندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

صوبائی دارلحکومت میں گل حاجی پلازہ میں ایک دفتر کے خلاف کارروائی میں برآمد کی گئی سینکڑوں کی تعداد میں جعلی دستاویزات اور سرکاری مہریں بھی آج صحافیوں کو دکھائی گئیں۔ ان میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی ایک اہم مہر بھی تھی جب کہ افغان وزارت دفاع کے جعلی کارڈز بھی ان میں شامل تھے۔

اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد شہر میں بھی ایک کارروائی میں بڑی تعداد میں جعلی ادویات قبضے میں لی گئی ہیں۔

پشاور میں ایف آئی اے کے نئے تعینات ڈائریکٹر عبدالقدیر بھٹی نے بتایا کہ وہ وزیراعظم اور دیگر اعلی حکام کی ہدایت پر یہ کارروائی شروع کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی سے یہ مہم اس لیئے مختلف ہوگی کہ اس دوران وہ جعل سازی کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر خصوصی توجہ دیں گے۔ ’اس سے ہماری بین القوامی سطح پر بدنامی ہوتی ہے لہذا اس کاروبار کا سدباب ضروری ہے‘۔

دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے انسداد دہشت گردی یونٹ کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی میں امریکہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔

صوبہ سرحد اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں جعل سازی کا کام ملک کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایف آئی اے حکام اس سلسلے میں کوئی اعدادوشمار تو نہیں دے سکے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار کافی بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
’مجید ملک کی ڈگری جعلی ہے‘
26 September, 2005 | پاکستان
جعلی ووٹ: 22 خواتین گرفتار
19 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد