BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 September, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجید ملک کی ڈگری جعلی ہے‘

مجید ملک
مجید ملک ضلعی ناظم بننے کے خواہش مند تھے۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پیر کے روز سابق جرنیل مجید ملک کی میٹرک کی سند کو جعلی قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی درخواست خارج کردی ہے۔

پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے سینیئر نائب صدر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مجید ملک کی میٹرک کی سند کو چکوال کے ریٹرننگ افسر نے جعلی قرار دیتے ہوئے ضلع ناظم کے لیے ان کے نامزدگی فارم مسترد کردیے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس محمد اختر شبیر نےگزشتہ جمعہ کو سماعت مکمل کرتے ہوئے دوپہر کو فیصلہ سنانے کا کہا تھا لیکن بعد میں انہوں نے دو روز میں فیصلہ دینے کو کہا۔

جمعہ کے روز پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے پہلے خبر جاری کی کہ مجید ملک کی سند کو عدالت نے درست قرار دے دیا ہے لیکن بعد میں وہ خبر واپس لے لی گئی تھی۔

مجید ملک نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں اور جلد اپنے وکلاء کی مشاورت سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

عدالت میں سماعت کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کے شعبے کے افسران نے ریکارڈ بھی پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ مجید ملک کی سند درست ہے۔ یونیورسٹی کے افسران کے مطابق سن انیس سو انتالیس میں مجید ملک نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔

مجید ملک نے بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ہونے والے ضلعی اور تحصیل سطح کے ناظموں کے انتخاب کے سلسلے میں ضلع چکوال کی نظامت کے لیے نامزدگی فارم داخل کیا تھا۔

ریٹرننگ افسر نے سابق جرنیل کی سند کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔ جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مجید ملک پاکستان آرمی میں سینئیر جرنیل تھے لیکن سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب اس وقت جونیئر لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالحق کو آرمی چیف بنایا تھا تو مجید ملک ’سپرسیڈ ‘ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

بعد میں انہوں نے نواز شریف کی سربراہی میں بننے والی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور وفاقی وزیر بھی بنے۔

لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ سیاسی اصلاحات میں جب پارلیمینٹ کے رکن بننے کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کی گئی تو وہ انتخابات سے باہر ہوگئے مگر پھر بھی صدر مشرف کی خواہش پر بننے والی مسلم لیگ قائد اعظم سے وابستہ رہے۔

حال ہی میں جب انہیں چکوال کی ضلعی ناظمی کے لیے نامزد نہیں کیا گیا تو ان کے پارٹی صدر چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کے ساتھ سخت اختلافات پیدا ہوگئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے چکوال میں ضلع ناظم کے لیے سردار غلام عباس کو نامزد کیا ہے اور ایسی صورتحال میں چکوال کی سطح پر حزب مخالف کی بیشتر بڑی جماعتیں مجید ملک کی حمایت کر رہی ہیں۔

مجید ملک نے کچھ روز قبل پریس کانفرنس میں جہاں وزیراعلیٰ پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے وہاں یہ بھی کہا تھا کہ وہ پارٹی عہدہ چھوڑ سکتے ہیں لیکن ناظم کا انتخاب ضرور لڑیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس بینچ نے مجید ملک اور سردار غلام عباس کی ایک دوسرے کو نااہل قرار دیے جانے کے بارے میں درخواستیں بھی مسترد کردیں۔

سردار غلام عباس نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ مجید ملک نے ابھی تک پارٹی کا عہدہ نہیں چھوڑا اور بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی ہیں اس لیے انہیں نا اہل قرار دیا جائے۔

جبکہ مجید ملک نے اپنی درخواست میں کہا تھا وزیر اعلیٰ پنجاب نے سردار غلام عباس کو نامزد کیا ہے جو کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے اس لیے انہیں نا اہل قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں حکومت کے حامی رکن سردار طفیل نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر سابق جرنیل کی سند جعلی ہے تو کیا فوج میں کوئی چیک نہیں کرتا؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد