’جعلی پیروں‘ کے خلاف کریک ڈاؤن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گزشتہ چار دنوں میں بارہ مبینہ جعلی پیر اور عامل گرفتار کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے اکثر مصروف علاقوں میں ’شہنشاہ جنات‘، ’کالے علم اور سفلی علم کے ماہر‘ کی تحریروں کے سائن بورڈ آویزاں ہیں۔ اِن کے ساتھ پروفیسر یا عامل ہونے کے دعویداروں کے آستانے بھی موجود ہیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں اس کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جعلی پیر، عامل اور کامل معصوم شہریوں بالخصوص خواتین اور پریشان حال لوگوں کو مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو نجومی اور علم نجوم کا ماہر قرار دیکر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی واجد درانی کی سربراہی میں ایک مانیٹرنگ سیل بنایا گیا ہے جو اس کارروائی کی نگرانی کر رہا ہے۔ واجد درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے بارہ جعلی پیروں کو گرفتار کرکے دھوکے بازی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ جعلی پیر کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ اور نوابشاہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان کے خلاف زیر دفعہ چار سو انیس پی پی سی مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں سات سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حکومت کے مطابق سندھ میں پانچ سو کے قریب جعلی پیر اور عامل ہیں جن میں سے نوّے کے قریب خود کو کالے علم اور سفلی علم کے ماہر قرار دیتے ہیں ۔ آستانوں میں عامل اور پیر تعویذوں کو اصلی زعفران سے لکھنے کے لیے بھاری رقم طلب کرتے ہیں۔ بکروں کا صدقہ دینے کے لیے بھی رقم طلب کی جاتی ہے۔ ان مبینہ جعلی پیروں اور نجومیوں کے چکر میں آکر خواتین اپنے زیوارات گنوا بیٹھتی ہیں جبکہ ان آستانوں میں مبینہ طور پر خواتین کو بے آبرو کرنے کے بھی واقعات پیش آچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں لی مارکیٹ میں ایک ’عامل‘ نے مبینہ طور پر کچھ خواتین سے زیادتی کی تھی جس کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا ۔ صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار بھی ان جعلی پیروں کے خلاف کارروائی کرنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں عامل ان پر بھی جادو نہ کردیں۔ مگر اب ’بہادر‘ افسر آگئے ہیں جو کارروائی کرینگے۔ واضح رہے کہ ان عاملوں کے اشتہارات مقامی اخبارات اور خاص طور پر شام کے اخبارات میں کثرت سے شائع ہوتے ہیں جن میں تحریر ہوتا ہے کہ محبت میں ناکامی، اولاد کا نہ ہونا، شوہر کو راہ راست پر لانا،۔ بچھڑے ہوئے کا ملنا، بچوں کی شادی، باہر کا سفر، اولاد کی نافرمانی، دشمنی، گھریلو ناچاقی،امتحان میں کامیابی اور رشتوں کی بندش سمیت تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ معاشرے میں موجود ان تمام مسائل کے حل لیے کئی لوگ ان پیروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ محکمے اطلاعات کے مشیر صلاح الدین حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارت اخبارات میں شائع کرنے سے روکنے کے لیے متعلقہ قوانین اور تعزیرات پاکستان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں کالے جادو کے لیے بچوں کا قتل18 May, 2004 | پاکستان مریدکے: بچے کی موت پراحتجاج 16 April, 2004 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان نجی ہاؤسنگ: قانون میں ترمیم20 September, 2004 | پاکستان سندھ میں سرمایہ کار کمپنیوں کا سکینڈل23 April, 2004 | پاکستان بارہ سالہ بچی کے پانچ شوہر22 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||