BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 00:19 GMT 05:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں سرمایہ کار کمپنیوں کا سکینڈل

متاثرین
سندھ میں گزشتہ دو ماہ میں انٹر پرائز کمپنیاں لوگوں کے تیس کروڑ سے زائد کی رقم ہڑپ کر چکی ہیں مگر پولیس ابھی تک ملزمان کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔

لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر کنگال کرنے والی یہ کمپنیاں ایک عرصے سے کام رہی ہیں- مگر ان کی حقیقت کا لوگوں کو تب پتہ چلا جب مارچ میں لاڑکانہ کے لوگوں کو بیس کروڑ روپے کی رقم سے ہاتھ دھونے پڑے -

پارس نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے خلاف مارکیٹ تھانہ لاڑکانہ پر سہیل شاہانی کی فریاد پر دس افراد کے خلاف فراڈ اور دھوکہ بازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انجمن تاجران لاڑکانہ کے صدر نثار علی اور سہیل شاہانی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو متاثرین کے تفصیلات جمع کر رہی ہے۔ نثارعلی کا کہنا ہے کہ پارس کمپنی کے علاوہ ایک اور کمپنی بھی لوگوں کے پیسے لے کر فرار ہوگئی ہے۔

دونوں کمپنیوں کے پاس آٹھ سو افراد رجسٹرڈ تھے جن کی بیس کروڑ سے بھی زائد رقم ہتھیا لی گئی ہے۔

ماہ رواں میں حیدرآباد میں ڈریم ویزا انٹر نیشنل کمپنی کے مالکان کے خلاف دھوکے بازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لطیف آباد اے سیکشن پولیس تھانے پر درج اس مقدمےمیں فریادی حکومت ہے اور ریاست کی جانب سے پولیس سب انسپیکٹر فضل حسین نے مقدمہ درج کروایا ہے۔ پولیسں نے کپمنی کے ایک مینیجر ناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم ناصر نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو پچیس فیصد رعایت پر کار، موٹر سائیکل، موبائل فون اور دوسرا سامان فراہم کرتے تھے جس کی ترسیل پینتالیس دن کے اندر ہوجاتی تھی۔ پولیس کے مطابق کمپنی کے مالکان لوگوں سے بکنگ کے نام پر کروڑوں روپے لے کر فرار ہوگئے ہیں۔ منیجر ناصر کا کہنا ہے کہ وہ بھی فرار ہونے والے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کمپنی کہ پاس کوئی بھی رجسٹریشن یا سند نہیں ہے-

حیدرآباد میں ایک اور کمپنی بھی لوگوں کی دس کروڑ روپے سے زائد رقم لے کر آفیس بند کرکے فرار ہوگئی ہے۔

ایک متاثر نے بتایا کہ ان کے چار لاکھ کمپنی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ کمپنی سے چار موٹر سائیکلیں حاصل کرچکے تھے جس کے بعد لالچ میں آکر مزید پیسوں کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کمپنی بھی مارکیٹ میں پچپن ہزار میں ملنے والی موٹر سائیکل پینتالیس ہزار میں دیتی تھی جس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے پیسے لگائے۔ اس کے علاوہ کار اور دیگر الیکٹرانکس کی مصنوعات بھی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر دلوائی جاتی تھیں۔ پچیس سالہ نوجوان کا کہنا ہے ’اگر مقدمہ درج کرائیں گے تو پیسے نہیں ملیں گے ہم لوگ پولیس کے پاس نہیں گئے‘۔

یہ کمپنیاں آسان اقساط اور پچیس فیصد کم قیمت پر مختلف اشیاء فراہم کرتی تھیں جس کے لئے کمپنی کا رکن بننا پڑتا تھا جبکہ لوگوں کے پیسے ڈپازٹ رکھ کر پچیس سے تیس ہزار تک منافع دیا جاتا تھا۔ اس پرکشش پیشکش کے جال میں لوگ پھنس گئے اور انہوں نے بڑی تعداد میں پیسے لگادیے۔ کمپنیوں کے ممبران میں مڈل کلاس کے تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت ہے۔ متاثرین میں نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری ملازمین، ڈاکٹر اور وکیل بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد