| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آن لائن بینکِنگ میں ای میل فراڈ
گزشتہ چند ہفتوں میں برطانیہ میں کئی بڑے بینکوں کا آن لائن کام ایک نئے ای میل سکیم سے متاثر ہوا ہے۔ ان بینکوں کے آن لائن صارفین کو ایک فرضی ای میل کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ان سے دھوکے سے اہم معلومات طلب کی جاتی ہیں۔ برطانوی بینک لائڈز ٹی ایس بی، بارکلیز، نیٹ ویسٹ اور یہاں تک کہ مکانو ں کے لئے قرصہ دینے والے سب سے بڑے بینک نیشن وائڈ کے صارفین کو بھی اس طرح کے ای میل موصول ہوئے ہیں۔ بارکلیز اور لائڈز ٹی ایس بی کے صارفین ’پھِشنگ‘ کے نام سے’معروف‘ اس سکیم کا نشانہ ستمبر میں بنائے گئے اور دو مزید بینکوں کے صارفین کو گزشتہ ہفتے اس ای میل فراڈ کا سامنا ہوا۔
بینکوں سے منسوب ان فرضی ای میل پیغاموں میں لوگوں سے انکے پاس ورڈ اور پِن نمبر یعنی اپنے اکاؤنٹ سے متعلق اہم ترین معلومات یہ کہہ کر مانگی جاتی ہیں کہ ان معلومات کی تصدیق کی جانی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن فراڈ کے اس سلسلے کا آغاز مشرقی یورپ میں ہوا اور یہ دو مرحلوں والے ایک سکیم کا حصہ ہے جو گزشتہ چند ماہ میں منظر عام پر آیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں برطانیہ میں مقیم لوگوں کو بیرون ملک سے ان کے اکاؤنٹس میں رقومات کی منتقلی کی پیشکش کی جاتی ہے۔ بارکلیز بینک کے صارفین کو موصول ہونے والے فرضی ای میل پیغامات میں انکے اکاؤنٹس سے متعلق معلومات کو ’اپڈیٹ‘ کرنے کے لئے کہا گیا۔ جس کے بعد انہیں اسی بینک سے منسوب ایک فرضی صفحے پر لے جایا گیا جہاں ان سے اکاؤنٹ نمبر اور پاس ورڈ بھرنے کو کہا گیا۔ بینک حکام نے صارفین کو خبر دار رہنے کو کہا ہے اور کسی بھی ایسے ای میل پر عمل کرنے سے گریز کرنے کو کہا ہے۔ برطانیہ میں لاکھوں صارفین آن لائن بینکنگ کا استعمال کرتے ہیں اور ابھی تک سینکڑوں افراد نے ان ای میل پیغامات کی شکایت کی ہے اور چند ایک اس فراڈ کی زد میں آ بھی چکے ہیں۔ اس فراڈ کا مقابلہ کرنے کے لئے بینکوں نے خصوصی ’ہیلپ لائنز‘ قائم کی ہیں۔ صارفین کو اس فراڈ سے بچانے کے لئے بینک حکام برطانیہ کے نیشنل ہائی ٹیک کرائم یونِٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||