| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھیس بدلتا فراڈیا
برطانیہ میں جمعہ کے روز ایک عدالت نے پال بنٹ نامی ایک شخص کو، جس نےگزشتہ بیس سالوں میں درجنوں بھیس بدل کر ایک سو سے زیادہ وارداتین کیں جیل بھیج دیا ہے۔ پال بنٹ نےجس کو برطانیہ میں شائع ہونے والے اخبارات نے’فراڈ کے بادشاہ‘ کا نام دیا ہے ڈاکٹر، بیرسٹر، امیر تاجر، پلے بوائے اور بیلے ڈانسر کے علاوہ شاہی خاندان کے ایک فرد کا بھیس اختیار کرکے کئی وارداتیں کیں۔ پال بنٹ اس قدر فن کار آدمی ہے کہ استغاثہ کے وکیلوں نے اس کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کو خبر دار کیا کہ وہ پاگل پن کی اداکاری نہ کرنے لگے اور وہ اسے پاگل قرار نہ دے دیں۔ اکتالیس سالہ بنٹ نے اپنی موجودہ وارداتوں کا سلسلہ دسمبر دو ہزار دو کو جیل سے سترہ ماہ کی قید سے آزادی ملنے کے بعد شروع کیا اور ایک امیر تاجر کا روپ اختیار کر کے ایک انتہائی مہنگی گاڑی اڑا لی۔
جیل سے رہائی کے بعد وہ کار کے حادثہ میں زخمی ہونے والے شخص کا روپ اختیار کر کے ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ ہسپتال میں پال بنٹ نے اپنے اپ کو ایک تنہا وکیل کے طور پر پیش کیا اور ایک خاتون ڈاکٹر کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ خاتون ڈاکٹر کو اس پر ترس آ گیا اور انھوں نے اسے اپنے گھر میں ٹھرالیا جہاں سے وہ ساٹھ پاونڈ اور کریڈٹ کارڈ چرا کر فرار ہوگیا۔ خاتون ڈاکٹر کے کارڈ اور ایک اور مریض کے چرائے ہوئے کارڈ کو لے کر وہ عیاشی کرنے نکل گیا اور ایک امیر آدمی کی لڑکی سے ’ڈیٹ‘ کے علاوہ ایک اور خاتون کے ساتھ ایک انتہائی مہنگے ہوٹل میں گل چھرے اڑاتا رہا۔ بنٹ کی فن کارانہ صلاحیتین انیس سو تراسی میں اس وقت آشکار ہوئیں جب انہوں نے لندن کی ایک ہسپتال میں ڈاکٹر کا روپ دھار لیا۔ ایک دفعہ انہوں نے ایک عورت سے کہا گھبراؤ نہیں میں ایک ڈاکٹر ہوں اور یہ کہا کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔ انہوں نے اس دوران مریضوں کے ایکسرے کرئے، ایک مریض پر ٹانکے لگائے اور حتی کہ وہ دل کے ایک آپریشن میں بھی حصہ لینے والا تھا۔ بنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ چاہتا ہے کہ اسکا ذہن اس کو قبول کرلئے اور وہ وہ سوچنا بند کر دے جو وہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||