BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 May, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبتی جوڑے کہاں جائیں؟

نوٹس بورڈ
بعض تفریح گاہوں میں دن کے وقت طلبہ اور طالبات کا داخلہ ممنوع ہے
لاہور میں کڑاکے کی گرمی جاری ہے۔ دِن بھر تو لوگ اُن کونوں کھدروں میں چھُپے رہتے ہیں جہاں سورج کی تمازت سے پناہ مِل سکے لیکن شام ہوتے ہی تازہ ہوا میں سانس لینے کی فطری خواہش بیدار ہوتی ہے۔

یہ خواہش صرف اُن لوگوں تک محدود نہیں جِن کی دوپہر دستی پنکھے یا دوہرے کیئے ہوئے اخبار جھلتے ہوئے گزرتی ہے، بلکہ وہ لوگ بھی جو ائرکنڈیشنر کا بٹن دبا کر دوپہر کو بے فکری کی نیند سوئے ہوں، غروبِ آفتاب کے بعد باہر نکلنا چاہتے ہیں، لیکن جائیں تو جائیں کہاں؟

سینما گھروں کی عمارتیں اس قابل رہی نہیں کہ ناک پہ رومال رکھے بغیر اُن میں داخل ہو سکیں اور اور اگر دِل کڑا کر کے اندر داخِل ہو بھی گئے تو وہاں دیکھیں گے کیا؟ میڈم دیہاڑی باز! یا بدمعاش گُجّر؟

سٹیج ڈراموں کا حال اس سے بھی بُرا ہے کیونکہ سینسر کی نگاہوں سے بچ کر جو کھیل پیش کیئے جا رہے ہیں وہ مجروں کی ایک انتہائی گھٹیا شکل ہیں اور جو کھیل سینسر کی نگرانی میں ہو رہے ہیں انھیں صرف سینسر والے ہی دیکھتے ہیں، تماشائی قریب نہیں پھٹکتے۔

شہر میں واحد گھریلو تفریح گاہ چڑیا گھر جہاں چُھٹی کے دِن ٹکٹ ملنا محال ہے

شاید اسی صورتِ حال کا نتیجہ ہے کہ ریستورانوں کے بعد لاہور میں سب سے زیادہ بھیڑ چڑیا گھر کے دروازے پر دکھائی دیتی ہے۔ اتوار کے روز تو دھوپ تیز ہونے سے پہلے ہی لوگ بیوی بچوں کو سکوٹروں، موٹرسائیکلوں یا رکشوں میں لاد کر چڑیا گھر کی راہ لیتے ہیں اور اگر ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو دوپہر تک اس جنگل میں منگل مناتے ہیں۔

یہ مانا کہ لاہور کے چڑیا گھر میں بدبودار پانی اور گِنتی کے پَر جھڑے پرندوں کے سِوا اب دیکھنے کو کچھ باقی نہیں لیکن گھر گرہستی والے لوگ چھٹّی کے دِن بچوں کو لے کر جائیں تو جائیں کہاں؟

اُن سے بھی بُری حالت نوجوان جوڑوں کی ہے جنھیں اظہارِ محبت کے لیئے شہر میں کہیں بھی جگہ نہیں مِلتی۔

اگر دِن کے وقت یہ جوڑے باغِ جناح میں داخِل ہونے کی کوشش کریں تو گیٹ پر یہ نوٹس ان کا استقبال کرتا ہے کہ سکول اور کالج کےاوقات میں نوجوانوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر شام ڈھلنے کے بعد یہ لوگ کسی عوامی پارک یا تفریح گاہ میں داخِل ہوں تو اندھیرا گہرا ہوتے ہی چوکیداروں کی سِیٹیاں فضا میں گونجنے لگتی ہیں اور یہ نوجوان دِل کی دِل میں لیئے باغ کے گیٹ سے باہر آجاتے ہیں۔ زمانے کے ستائے ہوئے ایسے جوڑوں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے مسئلے کا ایک انوکھا حل دریافت کیا۔

محبتی نوجوان، طلبہ کا بھیس بدل کر تعلیمی اداروں میں دِن گزارتے ہیں

یہ لوگ دو دو کتابیں بغل میں دبا کر طالب علموں کا روپ دھارتے اور کسی بڑے تعلیمی ادارے کی عمارت میں داخِل ہوجاتے جہاں سارا دِن لان میں، کنٹین میں یا کسی ویران ہال میں یا کالج کی لیبارٹری میں یہ نوجوان دِل کی باتیں کرتے۔ مگر افسوس کہ ہزاروں کی آبادی والے کالجوں میں بھی یہ ’بیرونی عناصر‘ کچھ عرصے بعد پہچان لیئے جاتے اور ایک دو جوڑوں کو جب پولیس کے حوالے کیا گیا تو پِیا مِلن کا یہ طریقہ کار بھی دم توڑ گیا۔

کینیڈا کی امیگریشن کا فارم بھرنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے جہاں میں اپنی من چاہی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پیار کے دو بول بھی نہیں بول سکتا۔

اگر یہاں سڑک کے کنارے لڑنے بھِڑنے اور گالی گلوچ کرنے پر پابندی نہیں تو محبت کے بے ضرر اظہار پر کیوں پابندی ہے؟

’ہمارا مدد کرو‘
پسند کی شادی کرنے والوں کو جان کا خطرہ
پسند کی شادی کی سزاپسند کی شادی پر
لڑکے کا نیم برہنہ گشت اور شہر بدری کا حکم
پیار کی شادی، ایک اور قتلایک اور لڑکی قتل
سندھ میں پیار کی شادی، ایک اور قتل
سیتا وائٹ اور ان کی بیٹی ٹایرئنعمران کی کشمکش
سیتا وائٹ کی بیٹی اور عمران خان
اسی بارے میں
منڈی کا حال
10 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد