منڈی کا حال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جونہی ہم نے چوکھٹ کے اندر قدم رکھا سازندوں نے جھپٹ کر کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے اور کچھ دیر پہلے تک ہر راہگیر کو دعوت نظارہ دینے والی بیٹھک ایک پل میں پرائیویٹ کوٹھا بن گئی۔ میزبان ایک مشفق، خوش گلو، مسلسل پان چبانے والی ادھیڑ عمر خاتون تھی جس نے بسم اللہ کہہ کر ہمیں بیٹھنے کی دعوت دی، اور مہمان ہم چار مرد جو پہلی بار لاہور کی ان پر پیچ گلیوں میں آ نکلے تھے جنہیں فقط خوش فہمی یا لا علمی کی بنا پر ہیرا منڈی کہا جاتا ہے۔ نالیوں میں بہنے والی گندگی اور نہاری پائے اور نان کی بو ایک ساتھ ناک تک پہنچتی تھی، دیواروں پر مختلف حکیموں اور عاملوں کے پوسٹر چسپاں تھے جن میں ’خوشگوار ازدواجی زندگی کے راز‘ عیاں کرنے کے دعوے تھے، اور گلیوں میں لوگوں کا ہجوم تو تھا لیکن ان میں بیشتر کھانے کے رسیا تھے، لیچڑ قسم کے دلال اور یا وہ کنگلے جو کھلے دروازوں سے بنی ٹھنی رقاصاؤں کو دیکھ کر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ کئی بیٹھکوں میں جھانکنے کے بعد ہم نے اس در کا فیصلہ جن دو ناچنے والیوں کو دیکھ کر کیا تھا ان میں سے جو کم سن تھی وہ ہاتھی کا دکھانے والا دانت ثابت ہوئی۔ ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ اچھل کر جو ادھیڑ عمر خاتون کے پہلو میں جا کر بیٹھی ہے تو آخر میں ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہی اٹھی اور وہ بھی مشفق خاتون کی کہنیوں کے وار سہنے کے بعد۔ ہم میں سے صرف شاہ جی لاہور کے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اتنے ہی حواس باختہ تھے جتنے باقی تینوں۔ کونر تو یوں بھی ایک نئے ملک اور نئی تہذیب سے آشنا ہو رہا تھا اور راجہ جی ہم سب میں کم عمر ہونے کے سبب کچھ ایسا تاثر دے رہے تھے جیسے جرم کا کوئی ساتھی پکڑے جانے سے پہلے ہی وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہو۔ باقی بچا میں تو میری حالت اس دہقان سے مختلف نہیں تھی جسے کھیتوں سے اٹھا کر ٹریکٹر بنانے کی فیکٹری میں لے جا کھڑا کیا جائے۔ ایسے مجہول قسم کے گاہکوں سے شاید خاتون کا پہلے بھی واسطہ رہ چکا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر ایک ایک سے حال چال پوچھا، آرام سے بیٹھنے کو کہا، بالترتیب چائے پانی اور پان کا پوچھا اور پھر سوال کیا کہ نوٹوں کی گڈیاں منگوائیں گے یا یکمشت ادا کریں گے؟ اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی جواب دیتا انہوں نے خود ہی کہا کہ نوٹ لٹانے میں کچھ الگ ہی مزہ ہے جو آپ جیسے معزز گاہکوں کی شان بھی بڑھاتا ہے اور بچیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ سچی بات ہے بچیوں کی حوصلہ افزائی تو ہم کرنا چاہتے تھے لیکن نوٹ لٹانے کے خیال سے کچھ ایسا فلمی کردار ذہن میں آتا ہے جو نہ تو دیوداس جیسا رومانوی ہے اور نہ ہی مقدر کا سکندر جیسا جوشیلا اور لا ابالی، بلکہ ایک بڑی سی توند والے لجلجے سے سیٹھ کا۔ سو ہم نے خاتون کی منہ مانگی رقم ان کی مٹھی میں رکھی جو فوراً ہی ان کے گریبان میں غائب ہو گئی، اور انہوں نے اطمینان سے سازندوں کی طرف دیکھا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اب یہ گاہک تماشبین بننے کے لیے تیار ہیں۔ جب تک سازندے اپنے اپنے ساز درست کر رہے تھے اور نچنیا آئینے میں اپنے سراپے کا آخری جائزہ لے رہی تھی، خاتون نے میری طرف جھکتے ہوئے اور اپنے گال پر چٹکی لیتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا: ’آپ کا جیسے دل چاہے آپ انجائے کریں۔ اور اگر کوئی اور بات ہو تو آخر میں مجھ سے کہہ دیں۔‘ بات ختم کر کے انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا جیسے استانی کسی غبی شاگرد کے بارے میں یقین کرنا چاہتی ہو کہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی ہے۔ ہارمونیم والے استاد نے اونچے اور چنگھاڑتے ہوئے سر سے آغاز کیا، طبلے والا استاد کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ اس نے تابڑ توڑ ہاتھ چلائے اور ہارمونیم سے کہیں اوپرجا پہنچا۔ نچنیا نے ایک جست بھری اور سجدے کی حالت میں زمین پر آ رہی۔ خاتون نے ریکھا کے یادگار مجرے قسم کی البم سے ایک گانے کے بول اٹھائے اور لڑکی ایک انگڑائی لے کر کھڑی ہوگئی۔ پھر گھنگرو کی چھن چھن اور طبلے کی گھن گرج پر لڑکی کا جسم اس کے چست لباس کے اندر مچلنے لگا اور اس کے چہرے کا پاؤڈر غازہ پسینے کی لکیروں میں بہنے لگا۔ دو تین گانوں کے بعد لڑکی نے چھوٹا سا وقفہ لیا۔ دوپٹے کے کونے سے اس نے گردن اور ماتھے سے پسینہ پونچھا اور سبزموتیوں والا ایک زیور جو اس کے لمبے اور گھنے بالوں میں جا پھنسا تھا اسے خاتون کی مدد سے چھڑایا۔ اب تک ہم سب بھی ریلیکس ہو چکے تھے اور اپنی پسند کے گانوں کی فرمائش بھی کرنے لگے تھے۔ شاہ جی نے مونچھوں تلے ایک پراسرار مسکراہٹ سجا کر نچنیا کا نام پوچھا۔ لڑکی نے ایک ادا سے بالوں کو جھٹکتے ہوئے کہا ’روبی‘۔ شاہ جی نے فوراً موبائیل فون نکال کر یہ نام اس میں محفوظ کر لیا۔ بڑی بی نے روبی کے تعارف کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ وہ کالج میں پڑھتی ہے اور ماڈلنگ بھی کرتی ہے۔ دوبارہ ناچ شروع کرنے سے پہلے روبی دیوار پر لگے ریگولیٹر کو گھما کر پنکھے کی رفتار بڑھا رہی تھی تو میری نظر ذرا اوپر لگے دو فریموں پر پڑی۔ ایک پر ’یا اللہ‘ لکھا تھا، ایک پر ’یا محمد‘۔ راجہ جی کی فرمائش پر سازندے ’تیرے نال میں لائیاں اکھیاں‘ کے سر تلاش کر ہی رہے تھے کہ بڑی بی نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا اور ہمیں مخاطب کر کے کہنے لگیں، دیکھیں آپ انجائے نہیں کر رہے۔ لڑکیوں کا دل ٹوٹ جائے گا۔ ہم سبھی نے دانت نکالے، تالی بجائی اور انہیں یقین دلایا کہ ہم بہت مزے میں ہیں لیکن بڑی بی نے پھر بھی شکایتی نظر سے میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں ’اب ایسے ڈفر گاہکوں کو میں کیسے سمجھاؤں؟‘ ناچتے ناچتے روبی کو تفریح سوجھی اور اس نے کونر کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا اور اپنے ساتھ ناچنے کو کہا۔ برطانوی مردوں کے بارے میں ایشیائی لوگوں کی توقعات کے برخلاف کونر ایک انتہائی شریف اور شرمیلا آدمی ہے۔ یوں تماشائی سے تماشہ بنائے جانے پر اس کا چہرہ ٹماٹر جیسا سرخ ہو گیا۔ ہم سب کے اصرار پر اس نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے کچھ بھنگڑے جیسا ناچ کرنا شروع کیا لیکن جب روبی نے بیباکی سے کونر کے ہاتھ اپنی کمر پر رکھنے چاہے تو وہ یوں پیچھے ہٹا جیسے بھڑوں کے چھتے کو دیکھ لیا ہو۔ بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ روبی کے بدن کو چھونا ہی بڑی بی کے بقول ’انجائے‘ کرنا تھا اور کونر نے شرافت کا ثبوت دے کر ہمارے دو تین ہزار روپے بچا لیے۔ جب بڑی بی اور ان کے طائفے کا صبر اور ہماری جانب سے فن کی بے قدری، دونوں کا پیمانہ چھلکنے لگا تو ہم نے رخصت چاہی۔ بڑی بی نے ہمیں دعاؤں سے نوازا اور اجازت دی کہ اب ہم اپنی خوشی سے جو بھی انعام روبی کو دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ یہ ہو گیا تو انہوں نے یاد دلایا کہ اس شام کو سجانے میں سازندوں کا بھی ہاتھ تھا لہذا - - - تینوں سازندے اپنا انعام حاصل کر چکے تو انہوں نے ہاتھی کے دکھانے والے دانت کی طرف اشارہ کر کے کہا: ’اور یہ بچی؟‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||