’پارک کو گالف کورس نہ بنایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں ایک عوامی پارک کو منی گالف کورس بنانے کا کام روکنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ پبلک پارکوں کو کمرشل جگہوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ عدالتی حکم کے بعد اس منی گالف کورس پر کام فورا روک دیا جائے۔ پانچ ایکڑ پر پھیلے اس پبلک پارک کو تین ماہ قبل سی ڈی اے نے شاہ شرابیل نامی ایک شخص کی فرم الفلاح کو الاٹ کر دیا تھا جنہوں نے لاہور میں بھی ایک منی گالف کورس بنایا تھا۔ اس مجوزہ گالف کورس کے لیے سی ڈی اے نے پندرہ سال کے لیے لاہور کی اس فرم کو لیز پر یہ پارک الاٹ کیا ہے اور فرم کو اجازت دی ہے کہ وہ اس جگہ بین الاقوامی فوڈ چین کو آگے کرائے پر جگہ دے اور اس گالف کورس کی انٹری، پارکنگ اور گالف کھیلنے کی فیس وصول کرے۔ اس کے علاوہ اس فرم نے اس پارک میں لگے تمام درخت بھی کاٹ دیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مولوی اقبال حیدر نامی شخص کی پٹیشن پر کاروائی کا حکم دیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ پارک شہریوں کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کو سی ڈی اے کسی نجی فرم کو الاٹ نہیں کر سکتی۔ | اسی بارے میں کورٹ: جج کےخلاف کارروائی کا حکم22 December, 2005 | پاکستان شادی کا کھانا، حکومت کو تنبیہ15 December, 2005 | پاکستان پتنگ بازی: سپریم کورٹ سے پانچ رہا08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||