BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 April, 2006, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: سزا یافتہ مشیر معطل

لاہور ہائی کورٹ
سابق رکن قومی اسمبلی میاں منیر کو بھی اسی بنیاد پرمعطل کیاگیاتھا
لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ حملہ کیس میں سزا یافتہ پنجاب حکومت کے ایک اور مشیر اختر رسول کو ان کے عہدہ پر کام کرنے سے روک دیا ہے جس کے بعد معطل کیے جانے والے صوبائی مشیرو ں کی تعداد دو ہوگئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ صوبائی مشیروں کی قانونی حیثیت کے معاملے پر بھی سماعت کررہی ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے چھ اور صوبائی حکومت کے انیس مشیر ہیں۔

جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جج میاں حامد فاروق نے سابق ہاکی اولمپیئن اور مشیر صوبائی حکومت اختر رسول کو معطل کیا۔ اس سے پہلے سابق رکن قومی اسمبلی میاں منیر کو اسی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔

عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری پنجاب سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان دو مشیروں کے دیے جانے والے مالی فوائد اوردیگر سہولتیں بھی بند کردیں۔

عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کے تمام مشیروں کو نوٹس جاری کیے تھے کہ وہ بتائیں کہ وہ کس قانون کے تحت اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔

پنجاب حکومت کے عدالت عالیہ میں مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچیس مشیروں کی تنخواہوں پر گزشتہ ڈیڑھ سال میں (ستمبر سنہ دو ہزار چار) ستائیس کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ ان مشیروں کو کاریں، مکانات، پٹرول، ٹیلی فون، عملے اور دیگر سہولتوں پر آنے والے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

عدالت عالیہ کے سامنے یہ سوال اٹھایاگیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل ترانوے کے مطابق صرف صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے وفاقی حکومت کے لیے پانچ مشیر مقرر کرسکتا ہے۔ آئین میں وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے لیےکسی مشیر کے تقرر کا کوئی ذکر نہیں۔

عدالت نے اس معاملے پر ایک رٹ درخواست کے بعد غو رکرنا شروع کیا جس میں لاہور کی ایک مسجد کے خطیب ملک شاہ محمد نے پنجاب حکومت کی جانب سے مشیروں کے تقرر کو چیلنج کیاتھا اور کہا تھا کہ ان میں سے چند مشیر جیسے اختر رسول اور میاں منیر سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں سزا یافتہ ہیں۔

عدالت عالیہ میں پنجاب کے سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ وزیراعلی پنجاب ان مشیروں کا تقرر اپنے صوابدیدی اختیارات اور رولز آف بزنس سنہ انیس سو چوہتر کی شق چھ اے کے تحت کرتے ہیں۔

عدالت عالیہ نے تمام مشیروں کو طلب کیا تھا لیکن جمعہ کے دن یہ مشیر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت عالیہ نے انہیں دوبارہ بلانے کے نوٹس جاری کردیے۔

اخراجات
 پنجاب حکومت کے عدالت عالیہ میں مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچیس مشیروں کی تنخواہوں پر گزشتہ ڈیڑھ سال میں (ستمبر سنہ دو ہزار چار) ستائیس کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ ان مشیروں کو کاریں، مکانات، پٹرول، ٹیلی فون، عملے اور دیگر سہولتوں پر آنے والے اخراجات اس کے علاوہ ہیں

عدالت عالیہ نے لاہور کے پانچ آئینی ماہرین عابد منٹو، خالد رانجھا، ایس ایم ظفر، حامد خان اور اعتزاز احسن سے بھی اس معاملہ پر عدالت کی معاونت کے لیے درخواست کی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے مشیروں میں کرنل ریٹائرڈ شجاعت احمد خان، میجر ریٹائرڈ اصغر کلیار، نعیم رضا، رانا اعجاز احمد خان، ملک
خالد محمود اور صبا صادق شامل ہیں۔

مشیروں میں وزیراعلیٰ کے دوستوں جیسے ایک نجی ہسپتال کے مالک جاوید اصغر، ان کی بیوی فائضہ جاوید اصغر، مسلم لیگ (نواز) سے منحرف ہوکر آنے والے افراد جیسے فرخ شاہ، حاجی حنیف، قیصر امین بٹ وغیرہ اور بی اے پاس نہ ہونے کی وجہ سے عام انتخابات نہ لڑ سکنے والے سیاستدان جیسے اللہ یار ہراج وغیرہ شامل ہیں۔ پچیس میں سے کم سے کم تیرہ مشیروں کا تعلق لاہور شہر سے ہے۔ عدالت عالیہ اس معاملے کی آئندہ سماعت چار مئی کو کرے گی۔

اسی بارے میں
پنجاب میں جلوسوں پر پابندی
15 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد