کشمیر: خیموں میں پانی، شدید سردی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو روز سے برف باری اور بارشیں جاری ہیں جس کی وجہ سے زلزے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مشکالات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے جو خیمہ بستیوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواح میں قائم ایک خیمہ بستی بارشوں کی وجہ سے مکمل طور پر زیر آب آگئی ہے اور لوگ کھلے آسمان کے نیچے ہیں ۔ یہ خیمہ بستی مظفرآباد کے نواح چہلہ بانڈی میں حال ہی میں قائم کی گئی تھی۔ خیمہ بستی میں لگ بھگ ساڑھے تین افراد پر مشتمل کوئی پچاس خاندان رہتے ہیں۔ اس میں پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہیں ہے اور اگر نالیاں بنی بھی ہیں تو زمین ہموار ہونے کی وجہ سے پانی وہیں ٹھہر جاتا ہے۔ سماں بانڈی کی اسماں بی بی کا خیمہ بھی پانی سے بھر گیا ہے اور وہ برتن سے پانی باہر پھینک رہی تھیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ’ سب کچھ گیلا ہوگیا ہے ہمارے کپڑے ، بستر ، کمبل اور خوراک سب کچھ گیلا ہوگیا ہے‘۔ بی بی کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس پکانے، بیٹھنے کی اور سونے کی جگہ نہیں رہی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمارے لئے کوئی متبادل انتظام کرے۔ اس خیمہ بستی میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق مظفرآباد شہر کے نواح میں واقع گاؤں سماں بانڈی سے ہے۔ اس گاؤں میں گزشتہ ماہ زمین سرکنے کی وجہ سے درجنوں گھر تباہ ہوگئے تھے اور اس واقعہ کے بعد وہاں کے بے گھر ہوئے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ شہلہ اپنی دو بہنوں اور والدہ کے ہمراہ اس خیمہ بستی میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ’ ہم دن سے پانی کو خیمے میں گھسنے سے روک رہے ہیں لیکن بے سود‘۔ زمین سرکنے کی وجہ سے شہلہ کے دو گھر تباہ ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمار سب کچھ پانی کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے میری کتابیں بھی ضائع ہوگئی ہیں‘۔ کیمپ منیجمنٹ آرگنائزیشن ( سی، ایم، او) کے کچھ اہلکار وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہاں پرموجود سی، ایم، او کے اہلکار غلام نبی کا کہنا تھا کہ تیز بارش کی وجہ سے نکاسی کے کام میں رکاوٹ پیش آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ان کو نئے بستروں کے علاوہ خوراک مہیا کریں گے۔ اس خیمے میں لوگوں کو بستر اور کمبل کے علاوہ چولہے اور گیس سلنڈر بھی مہیا کئے گئے ہیں۔‘ پاکستان کے شہر مظفرآباد میں تقریباً ستر خیمہ بستیاں قائم ہیں جن میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد رہتے ہیں۔ اگرچہ کشمیر کے اس علاقے میں بیشتر متاثرین خیماں بستیوں میں پانی کی نکاسی کے لئے خمیوں کے اردگرد نالیاں نکالی گئی ہیں لیکن چند ایک ایسی خیمہ بستیاں ہیں جہاں پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہیں ہے اور بارشوں کے دوران ان خیمہ بستیوں میں پانی چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے متاثرین کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ آٹھ اکتوبر کے زلزے کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چار اضلاع متاثر ہوئے اور گھر تباہ ہونے کی وجہ سے کوئی پندرہ لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ بیشتر متاثرین خیمہ بستیوں میں رہتے ہیں اور بارشوں کے دوران ان کے مکینوں کو خاصی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے اور لوگ اپنے خمیوں تک ہی محدود ہوجاتے ہیں اسی دوران حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے وادی نیلم جانے والی سڑک مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے بند ہوگئی ہے اور اس کے علاوہ مظفرآباد اور باغ ضلع میں کچھ اور سڑکیں تودے گرنے سے بند ہوگئی ہیں۔ |
اسی بارے میں دریا کنارے گھر نہ بنائیں: ماہرین 18 January, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان مظفرآباد کے سفید پوش کہاں جائیں؟16 February, 2006 | پاکستان زلزلے کی افواہ سے خوف و ہراس18 February, 2006 | پاکستان تین جڑواں بچے، دو جڑی ہوئی بہنیں19 February, 2006 | پاکستان موگادیشو سے مظفر آباد تک24 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||