زلزلے کی افواہ سے خوف و ہراس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہفتے کو ایک اور زلزلہ آنے کی افواہ سے لوگوں میں زبردست خوف ہراس پھیل گیا جس کے باعث متعدد تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے اور لوگ گلیوں اور سڑکوں پر نکل آئے۔ شہر میں یہ افواہ دن بھر گردش کرتی رہی اور اس کے باعث اسکولوں میں بچوں کو چھٹی دے دی گئی اور لوگ خاص طور پر بچے اور عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور وہ کئی گھنٹوں تک اپنے گھروں سے باہر رہے ۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزے کے بعد پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں وقتاً وقتاً زلزلے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے جھٹکے محسوس کیئے جاتے رہے ہیں اور اب تک سترہ سو سے زیادہ جھٹکے محسوس کیئے جا چکے ہیں۔ اس دوران یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ زلزے کے بڑے جھٹکے بھی آسکتے ہیں لیکن یہ اوفواہیں ایک خاص علاقے اور بہت ہی کم لوگوں تک ہی محدود رہیں۔ لیکن ہفتے کی افواہ کا دائرہ خاصہ وسیع تھا اور یہ جنگل کی آگ کی طرح دور دور تک پھیل گئی اور زلزلہ آنے کے وقت کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ اس وجہ سے مظفرآباد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بہت سے سکولوں میں بچوں کو چھٹی دے دی گئی اور لوگ خاص طور پر عورتیں اور بچے گھروں سے باہر نکل آئے اور وہ خوف کی وجہ سے کئی گھنٹے تک اپنے گھروں سے باہر رہے ۔ پہلی جماعت کا طالب علم غلام حمزہ مظفرآباد شہر کے نواح میں واقع نلوچھی میں اپنے گھر سے دوڑ کر باہر آتے ہوئے کہا کہ ’ میرے چاچا کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ گھروں سے باہر نکلو کیوں کہ تین اور چار بجے زلزلہ آنے والا ہے ۔ ہمیں گھر کے اندر جانے سے ڈر لگتا ہے ہم باہر ہی رہیں گے کیوں کہ جھٹکا آنے والا ہے۔ نلوچھی مظفرآباد کے ان چند علاقوں میں ایک ہے جو آٹھ اکتوبر کے زلزے میں تقریباً محفوظ رہے سوائے اس کے کچھ گھروں میں دراڑیں پڑی ہیں اور یہاں پر لوگ اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں۔ یہاں بہت سارے بچے اور عورتین اپنے گھروں سے باہر ایک جگہ جمع ہوئے تھے ان میں بشریٰ شبیر ڈاراور ان کے بچے بھی تھے۔ اس افواہ کا دائرہ صرف شہر مظفرآباد تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ مظفرآباد کے دیگر قصبوں اور ضلع باغ میں بھی دن بھر یہ افواہ گردش کرتی رہی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انسپکڑ جنرل پولیس شاہد حسن نے کہا کہ’میں اور ساری انتظامیہ کابینہ کے اجلاس میں تھے اور جونہی ہم کابینہ کے اجلاس سے باہر آئے تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ شہر میں کسی نے یہ افوا پھیلائی ہے کہ تین بجے زلزلہ آنے والا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ کہاں سے پھیلی اور کس نے یہ پھیلائی۔ انہوں نے کہا’یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہوسکتے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں کراچی میں ورلڈ سوشل فورم 13 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||