کراچی میں ورلڈ سوشل فورم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں چوبیس مارچ سے انتیس تک چار دن ورلڈ سوشل فورم منعقد کیا جائے گا جس میں دنیا بھر سے امن کے خواہاں سرگرم کارکن، ٹریڈ یونین، نوجوان اور خواتین سے متعلق امور پر کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں شرکت کریں گی۔ فورم کے افتتاحی اجتماع سے جنوبی افریقہ کے بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو، ترقی پسند رائیٹر طارق علی اور ارون دھتی رائے خطاب کریں گے جبکہ اختتامی اجلاس میں بدھسٹ رہنما ڈلائی لاما مہمان خصوصی ہوں گے۔ کراچی میں واقع ورلڈ سوشل فورم کے سیکریٹریٹ میں پیر کے روز پاکستان کی مختلف این جی اوز کے رہنماؤں کرامت علی، اقبال حیدر، فہیم الزمان، بصیر نوید اور انوشے عالم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے پروگرام کی منظوری دے دی ہے جبکہ مندوبین کی فہرست فراہم کی جائے گی۔ ’ہمیں امید ہے کہ اس کی بھی اجازت مل جائےگی۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس فورم میں پاک بھارت مذاکرات، میانمار اور تھائی لینڈ کے معاملات، فلسطین اور اسرائیل تنازع، عراق۔ ایران اور افغانستان کی صورتحال بھی بحث کےموضوعات میں شامل ہیں۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی او، سافٹا اور فری ٹریڈ، سماجی انصاف اور حقوق انسانی کے موضوعات پر بات چیت اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔ کرامت علی نے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس فورم میں پندرہ سے بیس ہزار لوگ شرکت کریں گے اور رجسٹریشن پندرہ فروری تک جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ سوشل فورم جنگی جنون کے خلاف ایک احتجاج کے بعد وجود میں آیا تھا۔ جو تین سال مسلسل برازیل میں ہوا اور آخری مرتبہ گزشتہ سال بمبئی میں اس کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ کرامت علی نے بتایا کہ ورلڈ سوشل فورم پہلی مرتبہ ایسے ملک میں ہورہا ہے جس میں فوجی حکومت قائم ہے۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں توہیں رسالت اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کراچی کے سابق میئر فہیم الزمان نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی سکیورٹی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ جو لوگ آرہے ہیں وہ انسان دوست ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ سوشل فورم کے انعقاد سے اس شہر سے متعلق منفی تاثر ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ دنیا کو یہ مثبت تاثر بھی ملے گا کہ یہ روشنیوں کا شہر ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی شمولیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’بہت سی جماعتوں نے ہمیں حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے مگر ہم ان کی شمولیت نہیں چاہتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ ورلڈ سوشل فورم اس سے قبل چوبیس تا انتیس جنوری تک ترتیب دیا گیا تھا مگر زلزلے کے بعد اس کو ملتوی کردیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں افریقہ، گلوبلائزیشن کا موجودہ ماڈل06 June, 2004 | Guest جمہوریت بنام گلوبلائزیشن25 July, 2004 | Blog ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ان کی سماجی ذمہ داری31 July, 2004 | Blog امریکی تارکین وطن: گلوبلائزیشن کے معمار24 October, 2004 | Blog مشرق وسطٰی میں جمہوریت کا فروغ13 May, 2005 | Blog ’جی ایٹ دنیا کو متحد کرسکتا ہے‘05 July, 2005 | آس پاس آپ عالمگیریت کے حق میں ہیں؟19 January, 2004 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||