تین جڑواں بچے، دو جڑی ہوئی بہنیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک خاتون نے تین بچوں کو جنم دیا جن میں دو بیٹیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جڑی ہوئی بہنوں کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ستائیس سالہ شازیہ نے سنیچر کو مظفرآباد کے عباس میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں تین بچوں کو بچوں کو جنم دیا ہے ان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔ ان جڑواں بہنوں کے پیٹ اور سینے آپس میں جڑے ہوئے ہیں جبکہ تیسرا بیٹا نارمل ہے ۔ ان جڑی ہوئی بہنوں کو اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنز میں منتقل کیا گیا ۔بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکڑ طاہر عزیز کا کہنا ہے پمز میں ان بچوں کے معائنے کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا دل اور جگر مشترک ہیں اور بچوں کو آپریشن کے ذریعے الگ کرنا ممکن نہیں ہے اور ان بچوں کے بچنے امکانات بہت ہی کم ہیں ۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہے کہ جڑواں بہنوں کا وزن ساڑھے چار پونڈ ہے ۔ ڈاکڑ طاہر ان بچوں کے ہمراہ مظفرآباد سے اسلام آباد گئے ہیں۔ بچوں کی ماں کا تعلق وادی نیلم کے علاقے شاردہ سے ہے اور وہ زلزلہ کے بعد مظفرآباد سے آٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر کامسر کمیپ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں۔اس خاتون کے دو اور بچے ہیں جن میں چار سالہ بیٹی اور تین سالہ بیٹا ہے وہ دونوں نارمل ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر کا کہنا ہے کہ دنیا میں پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ ڈیلیوریز میں سے ایک ابنارمل پیدا ہوتا ہے ۔ ّڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جب نر جرثومہ ( سپرم ) اور مادہ جرثومہ یا بیضہ ( اووم ) آپس میں ملتے ہیں تو زائیگوٹ بناتے ہیں اور بعض اوقات زائیگوٹ دو یا اس سے زیادہ حصوں میں تقسیم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جڑواں یا اس سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ زائیگوٹ مکمل طور پر الگ نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آپس میں جڑے ہوئے پیدا ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا دنیا میں شاز ونادر ہی اس طرح کے بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ | اسی بارے میں جڑواں بچوں کا آپریشن مکمل12 October, 2003 | آس پاس جڑے سروں والے بچے آمنے سامنے26 October, 2003 | صفحۂ اول جڑواں بچوں کی وباء 24 February, 2004 | آس پاس ایرانی بہنوں کی لاشیں تہران پہنچ گئیں01.01.1970 | صفحۂ اول جڑواں بہنوں کا آپریشن جاری07.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||