| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جڑواں بچوں کا آپریشن مکمل
مصر سے تعلق رکھنے والے دو جڑواں بھائیوں کو جن کے سر پیدائشی طور پر جڑے ہوئے تھے ایک طویل آپریشن کے بعد علیحدہ کر دیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ امریکی ریاست ڈالاس میں بچوں کے ایک ہسپتال میں ہونے والے اس آپریشن کے بعد ڈاکڑوں نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ دونوں بھائیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم انھیں ابھی کئی روز تک بے ہوش رکھا جاائے گا تاکہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو سکیں۔ آپریشن میں شامل ایک سینیئر ڈاکٹر جم تھامسن نے کہا کہ یہ دونوں بھائی جن کی عمر دو سال ہے اب الگ الگ آزادنہ طور پر زندگی گزارنے کے قابل ہیں۔ اس آپریشن میں ڈاکڑوں کو ان بھائیوں کے جڑے ہوئے سروں اور ان میں موجود رگوں کے گنجلک جال کو علیحدہ کرنے میں چوبیس گھنٹےسے زیادہ کا وقت لگا۔ اس آپریشن میں پچاس سے زیادہ ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر طبًی عملے نےحصہ لیا۔ محمد اور احمد ابراہیم کے دماغ علحیدہ تھے لیکن ان کی ایک اہم نس مشترک تھی۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں طویل آپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے دوران ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
بچوں کے سروں کی ساخت کے باعث انہیں نہ صرف اپنی گردنیں موڑنے اور کھانا نگلنے میں مشکل پیش آتی تھی بلکہ یہ اپنی آنکھیں بھی صحیح طور پر نہیں جھپک سکتے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر انہیں الگ نہ کیا گیا تو یہ ایک دوسرے سے جڑے ہونے کی وجہ سے زندگی بھر مسائل میں گرفتار رہیں گے۔ اسی سال جولائی میں دو ایرانی بہنوں کے سر علٰحیدہ کرنے کے آپریشن کے بعد سے یہ اپنی طرز کا پہلا آپریشن ہے۔ جڑواں بھائیوں کے والد ابراہیم محمد ابراہیم نے ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت دے دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے نارمل زندگی گزارنے کی خاطر تمام خطرات مول لینے کو تیار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||