BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 February, 2006, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گومل زا ڈیم پر راکٹوں سے حملہ

حملہ
قریبی پہاڑیوں سے نامعلوم افراد نے دس سے زائد راکٹ داغے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں زیرتعمیرگومل زام ڈیم کے مقام پر منگل کی رات نامعلوم افراد نے دس سے زائد راکٹ داغے ہیں تاہم اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ڈیم پر کام تقریبا ڈیڑھ برس قبل دو چینی انجینروں کے اغوا اور بعد میں ایک کی ہلاکت کے واقعے کے بعد سے کام بند پڑا ہے۔

راکٹوں کا تازہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق گومل زام ڈیم کے مقام پر پاکستانی اور چینی ماہرین کی آمدو رفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کل نصف شب کے بعد قریبی پہاڑیوں سے نامعلوم افراد نے دس سے زائد راکٹ داغے۔

ان میں سے داغے گئے اکثر راکٹ ڈیم سائٹ پر قائم نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور اور مقامی خاصہ دار پولیس کی حفاظتی چوکیوں کے قریب گرے تاہم ایک راکٹ چوکی کو بھی لگا جس سے اسے جزوی نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ذرائع کے مطابق حملے کے وقت اس علاقے میں سائٹ کے معائنے کے لئے آئی ہوئی ایک چینی ٹیم بھی موجود تھی تاہم حکام کے مطابق وہ راکٹوں سے نشانہ بنے والے جگے سے کافی دور تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چینی اور پاکستانی ماہرین کے دوروں کے علاوہ چند روز قبل سائٹ پر مشنری بھی پہنچائی گئی تھی۔

راکٹ حملہ چینی ماہرین ٹیم کے دورے کے دوران کیا گیا

واپڈا ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ سائنو ہاڈرو نامی چینی کمپنی سے کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں تاہم امکان ہے کہ ڈیم کی تعمیر مارچ میں دوبارہ شروع کر دی جائے۔

چینی کمپنی نے گومل زام ڈیم کی تعمیر تقریبا ڈیڑھ برس قبل قبائلی جنگجو عبداللہ محسود کی جانب سے دو چینی انجینروں کے اغوا کے بعد بند کر دی تھی۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان چینیوں کی رہائی کی کوشش کے دوران ایک چینی ہلاک ہوگیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے حکومت پاکستان اور چینی کمپنی کے درمیان کام دوبارہ شروع کرنے پر معاہدہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

چینی کمپنی ڈیم کے ٹھیکے کی مالیت اور منصوبے کی تکمیل کی مدت میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

اب بظاہر کافی لے دے کے بعد دریاے گومل پر اس ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع ہونے کا امکان پیدا ہوا تھا کہ یہ راکٹ حملہ ہوا ہے۔

ابھی واضع نہیں کہ اس تازہ حملے سے اس منصوبے کے دوبارہ شروع ہونے پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں۔

اسی بارے میں
وزیرستان میں مزید ہلاکتیں
07 January, 2006 | پاکستان
وزیرستان: ایک فوجی ہلاک
30 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد