دوسری رات کھلے آسمان کے نیچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی امدادی کارروائیوں کے باوجود بھی پاکستان کے زیرانتطام کشمیر، شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کے شدید متاثرہ علاقوں میں تاحال امدادی سامان نہیں پہنچا اور سینکڑوں لوگ آسمان تلے امداد کی آس پر جی رہے ہیں۔ کشمیر کے علاقے باغ سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ اب تک لوگ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کئی طالبات اور طلباء کالجوں کی عمارتوں کے نیچے دبے ہیں اور ان میں سے کئی کے والدین اپنے مکانات کے ملبے کے نیچے ہیں۔ راولا کوٹ سے ایک صحافی شکیل چودھری نے اطلاع دی ہے کہ پانچ منزلہ جناح میڈیکل کمپلیکس کی عمارت زمین بوس ہے اور تاحال لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز اتوار کو وہاں آئے اور لوگوں کو تسلیاں دے کر چلے گئے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ زمین بوس ہونے والی فوجی ہسپتال سے کچھ لاشیں نکالی گئی ہیں۔
صحافی کے مطابق اس وقت کچھ لوگ جمع ہوئے اور صدر سے ملنا چاہا تو فوجی جوانوں نے انہیں دھکے دے کر واپس کردیا جس پر لوگ مشتعل ہوگئے۔ راولا کوٹ کے گرد نواح میں علی سوجل، کھائی غلا، پانیو والا اور پاچوت میں لوگ اپنے تباہ حال مکانات کے سامنے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور شام گئے تک انہیں کمبل ملے نہ خیمے نہ ہی کھانا۔ ان علاقوں میں ان کے مطابق نہ فوج پہنچی ہے اور نہ ہی کوئی این جی او۔
ایبٹ آباد ضلع کے گاؤں علی آباد سے پرویز نامی شخص نے بتایا ہے کہ ان کے گاؤں میں اسی کے قریب مکانات منہدم ہوچکے ہیں اور وہ کھلے آسمان تلے آج دوسری رات بھی گزاریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہیلی کاپٹر ان کے قریب سے گزر گئے لیکن انہوں نے کوئی کھانا یا کمبل وغیرہ نہیں گرایا۔ پرویز احمد بات کرتے ہوئے آْبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ میرا پیغام صدر مشرف تک پہنچائیں کہ ’خدارا ہم جیتی جاگتی لاشوں کو بچائیں۔‘ ادھر بالا کوٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ ، بٹل اور دیگر علاقوں سے بھی امدادی سامان کہیں کم پہنچنے اور کہیں کچھ بھی نہ پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ کئی متاثرہ علاقوں میں سامان اتوار کو پہنچایا جا چکا ہے اور جہاں نہیں پہنچ پایا وہاں پیر کو سامان بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق افغانستان سے کچھ ہیلی کاپٹر منگوائے ہیں اور بیرون ملک سے بھی کئی طیارے سامان سے بھرے ہوئے پہنچے ہیں اور پیر کو زیادہ تر علاقوں میں امدادی سامان پہنچ جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||