رمضان کا چاند: ایک بار پھر متنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں وجہ کوئی بھی ہو دو روزوں یا عید کی روایت سے چھٹکارا پانا ناممکنات میں سے ہے۔ کبھی کبھی تو دو کی بجائے تین مختلف ایام میں بھی روزے بھی رکھے گئے ہیں۔ ہر برس یہ تنازعہ کم از کم دو مرتبہ سر اٹھاتا ہے لیکن اس کا کوئی مستقل حل دیکھائی نہیں دیتا۔ منگل کے روز صوبائی دارلحکومت پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اپنے ایک اجلاس میں شہادتیں نہ ملنے پر جمعرات کے روز پہلے روزے کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اوقاف پلازہ میں مفتی منیب الرحمان کی صدارت میں تین گھنٹے تک اجلاس جاری رکھا جس کے دوران اسے پانچ شہادتیں بھی موصول ہوئیں لیکن کمیٹی نے انہیں معتبر قرار نہ دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں مطلع صاف تھا جس کے باوجود کسی مقام سے شرعی شہادت موصول نہیں ہوئیں۔ اجلاس کے اختتام پر مرکزی کمیٹی نے رمضان کا چاند نظر نہ آنے کا اعلان کر دیا جس کے مطابق ملک میں پہلا روزہ جمعرات کے روز ہوگا۔ تاہم صوبائی رویت ہلال کمیٹی اس فیصلے سے خوش دیکھائی نہیں دی رہی تھی اور اس نے اپنا اجلاس پشاور میں دیر تک جاری رکھا۔ اس اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر امان اللہ حقانی نے کی لیکن بلاآخر انہوں نے بھی مرکزی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ اس فیصلے کے باوجود پشاور میں مقامی علما نے اس مرتبہ ایک ہی روز تمام ملک میں رمضان کے آغاز کو ناممکن بنا دیا۔ مسجد قاسم علی خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی زیر صدارت اجلاس میں چار مختلف علاقوں سے شہادتیں موصول ہونے پر روزے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد حسب روایت پشاور کی کئی مساجد میں سپیکروں پر رات گیارہ بجے کے بعد روزے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں، چارسدہ، صوابی اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں آج روزہ رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل پشاور میں کئی مساجد میں رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر نماز تراویح کا اہتمام کیا گیا۔ ماضی میں رمضان اور عیدین کے مواقع پر مرکزی اور سرحد حکومت کی قائم کردہ رویت ہلال کمیٹیاں اختلافات کا شکار رہی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ مقامی علما نے اختلاف کرتے ہوئے روزے کا اعلان کر دیا۔ کئی لوگ اسے چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں علما میں اثر و رسوخ رکھنے والی اس حکومت کے تحت اس قسم کا مقامی علما کی جانب سے اعلان جائز نہیں تھا۔ پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منقعد کرنے سے بھی بظاہر کوئی افاقہ نہیں ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||