BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2003, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’۔۔۔۔ہوتے جو مسلماں بھی ایک‘

وائجر ون
خلائی گاڑی وائجر ون چھبیس سال پہلے خلا میں بھیجی گئی تھی اور اب نظام شمسی کی حدود سے نکلنے والی ہے

گزشتہ روز بی بی سی اردو سروس نے پاکستان میں عید کا چاند دیکھنے سے متعلق تنازعہ پر صوبہ سرحد کے وزیر مذہبی امور حافظ اخترعلی اور چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کو اظہار خیال کی دعوت دی۔

ظاہر ہے کہ اس کا مقصد صوبائی اور وفاقی سطح پر چاند دیکھنے کے الگ انتظامات کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر فریقین کے موقف کو سامعین تک پہنچانا تھا۔

تاہم حافظ اختر اور مفتی منیب اس اہم مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرنے کی بجائے بری طرح آپس میں الجھ گئے اور ایک دوسرے پر جھوٹ، ہٹ دھرمی اور ٹی اے ڈی اے کا لالچی ہونے کے الزامات لگائے۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر دونوں حضرات تحمل سے اپنا اپنا موقف پیش کرتے اور پریزنٹر وسعت اللہ خان کے سوالات کی وضاحت کرتے۔ افسوس!

ان حضرات کی بحث سن کر وہ حکایت یاد آگئی کہ جب ہلاکو خان کا لشکر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا تھا تو بغداد کے علماء جامع مسجد کے صدر دروازے پر اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کوا کھانا حلال ہے یا حرام۔

کیا واقعی تاریخ خود کو دہراتی ہے؟

پاکستان میں شہر کی تقریباً ہر بڑی مسجد میں ایک چاٹ آویزاں نظر آتا ہے جس میں پانچ وقت نماز کے دائمی اوقات درج ہوتے ہیں۔ مسجد کا مؤذن انہی اوقات کو دیکھ کر مسلمانوں کو دن میں پانچ مرتبہ نماز اور فلاح کی طرف پکارتا ہے۔

زمین کی گردش
زمین سورج کے گرد اپنی گردش تین سو پینسٹھ دن اور تقریباً چھ گھنٹے میں پورا کرتی ہے۔

وہ نہ تو فجر کی نماز کے لئے ’رات کی کالی دھاری‘ کو ’دن کی سفید دھاری‘ سے جدا ہوتے دیکھتا ہے، نہ ظہر کے تعین کے لئے سورج کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھتا ہے کہ زوال کا وقت گزر گیا ہے، اور نہ ہی عصر کی اذان سے پہلے چیزوں کے سائے کو جانچتا ہے کہ دوگنے ہوگئے ہیں کہ نہیں۔ بلکہ وہ اس ’دائمی نقشۂ اوقات نماز‘ کو دیکھنے کے بعد مسجد کی گھڑی پر نظر ڈالتا ہے اور وقت متعینہ پر اذان دیدیتا ہے۔ اسی طرح سحر و افطار کے اوقات بھی اسی نقشے کے مطابق پہلے سے متعین ہیں۔

ان اوقات کا تعین سورج کے گرد زمین کی سالانہ گردش کی سائنسی جانچ کے بعد کیا گیا ہے۔ اور گردش کا یہ حساب اتنا درست ہے کہ اس میں اب ایک لمحہ کی کمی بیشی کا امکان بھی نہیں ہے۔

زمین سورج کے گرد اپنی یہ گردش تین سو پینسٹھ دن اور تقریباً چھ گھنٹے میں پورا کرتی ہے۔ اسی سبب ہر چار سال بعد فروری کا مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے کیونکہ چوتھے سال یہ چھ گھنٹے جمع ہوکر ایک زائد دن بن جاتے ہیں۔ یہ شمسی سال لیپ کا سال کہلاتا ہے۔ اس سائنسی حقیقت سے پرائمری سکول کے بچے بھی واقف ہوتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کا یہ شمار اتنا کانٹے کا ہے کہ ہر سال بائیس جون طویل ترین اور بائیس دسمبر مختصر ترین دین ہوتا ہے۔

’دائمی نقشۂ نظام اوقات‘ اسی شمسی تقویم یا کلینڈر کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔

یہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ بے شک اوقات کا یہ نقشہ ہمیشہ کے لئے ہے تاہم اس کا اطلاق مقامی جغرافیائی اکائی تک محدود ہوتا ہے۔ اسی دلیل کو چاند کے نکلنے پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور طول بلد اور عرض بلد کے مطابق پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ کب کہاں چاند افق پر نمودار ہوگا۔

وائجر ون
امریکہ نے چھبیس برس پہلے وائجر ون نامی خلائی گاڑی خلا میں روانہ کی تھی جو اس وقت زمین سے تقریباً ساڑھے تیرہ ارب کلومٹیر دور نظام شمسی کے آخری مدار میں پہنچ چکی ہے۔

اس کے علاوہ روز مرہ زندگی میں ہزاروں ایسے سائنسی آلات ہیں جن کا استعمال ہم اپنی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے زندگی میں کبھی نہ کبھی کرتے ہیں۔ مثلاً موبائل فون، ریڈیو، ٹیلی ویژن، مصنوعی سیارے وغیرہ۔

جب ہماری زندگی میں سائنسی علم اور آلات کا اس قدر عمل دخل ہے تو پھر چاند دیکھنے میں ان سے مدد کیوں نہیں لی جاتی۔ دنیا بھر میں رسدگاہیں قائم ہیں، ہر ملک میں ماہرین فکیات موجود ہیں، آخر ان سے مدد کیوں نہیں لی جاتی۔

سب جانتے ہیں کہ قمری سال کم و بیش تین سو پچپن چھپن دن کا ہوتا ہے۔ گویا شمسی سال سے دس روز کم۔ اور اس طرح ماہ رمضان چھتیس سال بعد شمسی سال کے اسی حصہ میں واقع ہوتا ہے جہاں چھتیس سال پہلے تھا۔

قرآن میں چاند کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق سوال کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ حج کے اوقات اور لوگوں کے معاملات کے تعین کا ذریعہ ہے۔ گویا چاند کا گھٹنا بڑھنا کسی واقعہ یا موقع کے وقت کے تعین کا ایک ذریعہ ہے، خود واقعہ یا موقع نہیں ہے۔

اب جب کہ وقت کے تعین کے دوسرے معتبر ذرائع معلوم ہو چکے ہیں تو رمضان اور عیدین کی تاریخوں کے تعین میں ان سے مدد لینے میں کیا قباحت ہے۔ اور پھر جب دوسرے مذہبی فرائض کے اوقات کے تعین میں ان ذرائع یا آلات سے مدد بھی لی جا رہی ہو۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔

امریکہ نے چھبیس برس پہلے وائجر ون نامی خلائی گاڑی خلا میں روانہ کی تھی جو اس وقت زمین سے تقریباً ساڑھے تیرہ ارب کلومٹیر دور نظام شمسی کے آخری مدار میں پہنچ چکی ہے۔ اور اندازہ ہے کہ کچھ عرصہ میں یہ ہمارے نظام شمسی سے نکل جائے گی۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ ہماری کہکشاں کے کسی دوسرے شمسی نظام میں داخل ہونے میں وائجر ون کو چالیس ہزار سال لگیں گے۔

صوبائی رویت ہلال کمیٹی
صوبائی رویت ہلال کمیٹی والے صوبۂ سرحد میں منگل کو عید ہونے کا اعلان کرنے کے بعد دعائے خیر کر رہے ہیں

آج یہاں لندن میں رجنٹ پارک میں واقع مسجد میں سلام پھیرنے کے بعد میرے برابر والے شخص نے مجھے عید مبارک کہا۔ اس شخص کو میں نے نہ پہلے کبھی دیکھا تھا نہ شاید آئندہ دیکھوں۔ تاہم وہاں نماز پڑھنے آنے والے مرد، عورتیں اور بچے رنگت، لباس کی وضع قطع اور بولیاں جدا جدا ہونے کے باوجود احساس اور جذبہ کی ایک ڈور میں پروئے ہوئے تھے۔ اور وہ ڈور ہے کلمۂ توحید کی۔ کاش یہ جذبہ اور احساس عالمگیر ہو جائے!

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل یا اسی طرح کا کوئی ادارہ دیگر اسلامی ملکوں کے علماء دین و سائنس سے مل کر ایک عالمی اسلامی کلینڈر بنا دے تو اس قضیہ سے ہمیشہ کے لئے نجات مل سکتی ہے۔ یا پھر یہی طے کر لیا جائے کہ ان تہواروں کے لئے چاند کا دیکھا جانا یا رویت ضروری ہے۔ اور اگر یہی لازمی شرط ہے تو پھر یہ طے کر دیا جائے کہ اس کا اطلاق کسیے ہوگا۔ اور کیا رمضان، شوال اور ذی الحج کے چاند کی رویت ضروری ہے یا دیگر قمری مہینوں کے لئے بھی یہ دستور ہوگا۔ اور پھر ایسا کرنے کے مجاز کون لوگ ہوں گے۔

اگر ملک کے کسی ایک حصے کی شہادت دوسرے حصہ پر لاگو نہیں ہوتی تو پھر مرکزی کمیٹی کا کھڑاک کیوں؟ سب مقامی جغرافیہ کے مطابق اپنے اپنے طور پر ان تہواروں کو منائیں۔ اس طرح مسلمانوں کو جگ ہنسائی سے نجات مل جائے گی۔

ایک ہے سب کا نبی، دین بھی، قرآن بھی ایک

کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد