چاند رات فائرنگ، روکنے کے اقدامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پولیس اس سال چاند رات کے موقعہ پر ہوائی فائرنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک بھرپور مہم چلا رہی ہے۔ صوبہ سرحد کے پشتون معاشرے میں خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ ایک روایت بن چکی ہے۔ چاند رات کے موقعہ پر ہر سال اس کی شدت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اکثر لوگ مکانات کی چھتوں پر چڑھ کر چاند نظر آئے یا نہ آئے ہوائی فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں کئی دلسوز کہانیوں نے جنم لے چکی ہے جب کہ کئی گھروں کی خوشی یکسر غم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہر سال تقریبا چار پانچ افراد ان گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو جاتے ہیں۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے جانی نقصانات کے بارے میں کوئی ٹھوس اعداوشمار تو موجود نہیں لیکن حکام کے مطابق یہ سنگین نوعیت کے ضرور ہیں۔ ضلع پشاور میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی ہے جس میں حساس علاقوں کے عمائدین سے ملاقاتوں کے علاوہ پوسٹروں اور بینروں کی مدد سے اس کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پشاور کے ایس ایس پی عابد علی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس مہم کا ایک مقصد حکومت کی رٹ قائم کرنا بھی ہے۔ ’لوگوں کو اس طرح کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں‘۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے چاند رات کے موقعہ پر ایسے علاقوں پر خصوصی نظر رکھیں گے جہاں سے یہ فائرنگ ہونے کا احتمال ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ایس ایس پی نے یہ بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ اقدامات وقت آنے پر واضع ہو جائیں گے۔ حکام کے مطابق اس مرتبہ کامیابی کی صورت میں اس مہم کو ایک مستقل شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ مہم کتنی موثر ثابت ہوتی ہے اس کا اندازہ چاند رات کو ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||