گداگروں کی داد رسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عید کے قریب آنے سے بازاروں پر خریداروں کے علاوہ بڑی تعداد میں بھکاری بھی یلغار کرتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ صوبہ سرحد کے دارلحکومت پشاور میں ان بھیک مانگنے والوں کے لئے حالات کچھ اتنے موافق نہیں۔ اس کی وجہ صوبائی حکومت کا فقیروں کی بحالی کے لئے ایک منصوبے کا آغاز ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے گداگری کے خاتمے کے لئے گزشتہ دنوں بڑی دھوم دھام سے پشاور کے فقیر آباد علاقے میں دارالکفالہ نامی مرکز کا افتتاح کیا۔ علاقے کا انتخاب بھی کام کی مناسبت سے شاید درست کیا گیا تھا۔ لیکن جب میں اس مرکز کی تلاش میں نکلا تو بڑی دقت اور کوشش کے بعد اسے تلاش کر پایا۔ نہ کوئی سائن بورڈ نا کوئی اور پہچانے کے لئے اشارہ۔ در تک پہنچ کر بھی واضع نہیں تھا کہ یہی دارالکفالہ ہے یا نہیں۔
صوبائی حکومت نے اس مرکز کو فی الحال پہلے سے قائم منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک سینٹر میں قائم کیا ہے۔ اندر داخل ہوا تو ایک بڑے سے احاطے کے ایک کونے میں ایک عمارت کی جانب لیجایا گیا۔ دروازے کے پاس چند عورتیں، بچے اور مرد دبکے کسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک دس سالہ بچہ میری جانب لپکا اور روتے ہوئے اپنے والد کی رہائی کی درخواست کرنے لگا۔ لیکن دارالکفالہ کے ایک شخص نے اسے دھتکار دیا۔ اس عمارت کے دروازے پر دو سپاہی ڈیوٹی پر نظر آئے۔ مرکز کے نوجوان منتظم امجد آفریدی سے پوچھا کیا گرفتار کئے جانے والے سب بھکاری فطری طور پر بڑے ٹھنڈے مزاج کے لوگ ہیں۔ وہ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے۔ برآمدے میں تازہ گرفتار کئے جانے والے بوڑھے بھکاری بھی ایک لائن میں بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔ چھاپوں میں پولیس کی مدد سے گرفتار کئے جانے والے بھکاریوں کو اس مرکز میں لباس کی سلائی، بجلی کا کام اور کرسی بننے جیسے ہنر سیکھائے جاتے ہیں۔ اب تک شہر کے مختلف علاقوں سے چھاپوں میں حکام ڈھائی سو بھکاریوں کو گرفتار کر کے یہاں لاچکے ہیں۔ ان میں سے اکثر عدالت یا ضمانت کی مدد سے رہائی پاچکے ہیں۔ ڈیڑھ سو شخصی ضمانت پر رہا کر دیے گئے جبکہ پچاس کے قریب نے عدالتوں سے رجوع کیا اور رہائی پائی۔ امجد آفریدی کے مطابق ایک بھکاری نے تو پانچ وکیل رہائی کے لئے رکھ لئے۔ ’اس کیس میں جج صاحب ہی اس کی ہر روز کسی وکیل کے ذریعے سماعت کر کر کے تنگ آگئے تھے۔‘ امجد نے ایسے وکیلوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے کیس لینے سے تو کم از کم گریز کریں۔ گرفت میں آنے والے بھکاریوں کی اقسام کے بارے میں دارالکفالہ مرکز کے منتظم امجد آفریدی نے بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں بوڑھے اور اپاہج بھیکاریوں کے پاس گرفتاری کے وقت لمبی رقمیں پرآمد ہوئی ہیں۔ ’ایک شخص سے سینتالیس ہزار، ایک اور سے ستائس ہزار روپے جبکہ ایک فقیر سے تو موبائل فون بھی ملا۔‘ مرکز میں مقیم ان افراد سے پوچھیں تو کم ہی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بھیک مانگا کرتے تھے۔ بونیر سے آیا ایک نوجوان ملنگ زادہ آج کل اس مرکز میں سلائی کا کام سیکھ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ نظر توڑنے یا ہرمل کا کام کرتا تھا کہ پکڑا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اب رہائی پا کر ٹیلرنگ کی دوکان کھولے گا۔ ایک منشیات کا عادی عابد حسین کا کہنا تھا کہ بھیک مانگتے تھے تو نشہ ملتا تھا بھیک نہ مانگتے تو نہیں۔ ’میرے باپ کی بھی اب توبہ ہے۔ کبھی بھیک نہیں مانگوں گا یا نشہ کروں گا۔‘ ایک افغان عظمت علی بھی مرکز میں بجلی کا کام سیکھ رہا ہے۔ اس کے ساتھی اس کا دماغی توزان خراب بتاتے ہیں۔ البتہ وہ خود یہ ماننے کو تیار نہیں۔ وقت گزارنے کے لئے عظمت علی پشتو کاگیت گنگناتے رہتے ہیں جس کے ایک مصرے کا مطلب ہے کہ میری نظر کمال کی ہے۔ یہ نظر لوگوں کی جیبوں پر رہنے کی وجہ سے تیز ہوئی ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے معلوم نہیں۔ اس مرکز کا قیام صوبائی حکام کے مطابق ایک چھوٹا مگر اہم آغاز ہے۔ اس کی کامیابی اور مسئلے کی سنگینی دیکھتے ہوئے حکام نے بھکاری عورتوں کے لیے ایک الگ مرکز قائم کیا ہے۔ لیکن آج کل اگر آپ شہر کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں بھکاریوں کی ایک فوج نظر آئے گی۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ایک نہیں بلکہ حکومت کو کئی دارالکفالہ کھولنے پڑیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||