چینی: بازیابی کے لیے قبائلی وفد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اغوا ہونے والے چینی انجینئروں اور ان کے پاکستانی محافظ کی بازیابی کے لیے ایک قبائلی وفد جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں سے ملاقات کر رہا ہے۔ قبائلی پارلیمینٹیرین مولانا معراج الدین کی سربراہی میں محسود قبیلے کا وفد اغواکاروں سے ایک نامعلوم مقام پر ملاقات کر رہا ہے تاکہ غیرمشروط طور پر چینی انجینئروں کو بازیاب کروایا جا سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ شدت پسندوں کا تعلق القاعدہ سے ہے اور وہ اغوائیوں کے ساتھ پہاڑی علاقے چاغملائی میں ایک گھر میں موجود ہیں جسے چاروں طرف سیکورٹی اہلکاروں اور مقامی قبائلیوں نے گھیر رکھا ہے۔ شدت پسندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ادھر سے نکل جانے کا محفوظ راستہ دیا جائے۔ اغواکاروں کے سربراہ کمانڈر عبداللہ محسود نے پہلے اس بات پر زور دیا تھاکہ اغواکاروں کو چینی انجینئروں سمیت قریبی پہاڑوں میں ان کے پاس آنے دیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک چینی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ بعد میں اس ڈیڈلائن میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔ ابھی تک کوئی نئی ڈیڈلائن نہیں دی گئی۔ عبداللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی انجینیئروں اور ان کے محافظ کو پاکستانی فوج کی متواتر بمباری سے تنگ آ کر اغوا کیا گیا ہے کیونکہ ’پاکستانی حکومت ہمارے دیہات اور عام شہریوں پر بمباری کر رہی ہے‘۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کمانڈر عبداللہ پہلے طالبان کے شانہ بشانہ جنگ کرتے رہے ہیں۔ جنگ کے دوران وہ پکڑے گئے اور حال ہی میں گوانتانامو کے جیل میں پچیس مہینے قید رہنے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔ ان کی رہائی کے وقت کہا گیا تھا کہ وہ اب امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||